آن لائن ہراسانی کیسز میں خواتین کو پریشان کیا جاتا ہے، روک تھام کیلئے فورم بنایا جائے، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے کیسز آتے ہیں، خواتین کو پریشان کیا جاتا ہے، ان جرائم کے روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ قوانین اور فورم بنایا جائے۔
اسلام آباد میں پائیدار ترقی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ آج کا سب سے بڑا تھریٹ ڈس انفارمیشن ہے، یہ ڈس انفارمیشن ہر انسان کو فیس کرنا پڑ رہی ہے، الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے ریگولیشن فریم ورک بنے، سوشل میڈیا پر چیک فیکٹ کا سسٹم بہتر کرنا اہم ضرورت ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ ڈس انفارمیشن کا سامنا زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے ادارتی اور ریگولیٹری نظام قائم ہوئے، تاہم سوشل میڈیا کے لیے بھی ایسا ہی مؤثر فریم ورک ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حقائق کی جانچ کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ موصول ہونے والی خبروں کی تصدیق کا مؤثر طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آن لائن ہراسانی کے واقعات میں خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے منفی استعمال اور ڈیجیٹل جرائم کا رجحان بھی تشویشناک ہے۔ ان جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین اور متعلقہ فورمز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل محاذ پر جرائم کی روک تھام کے لیے قوانین کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی اور مواد کی اے آئی لیبلنگ کے ساتھ مؤثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک درکار ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مثبت استعمال یقینی بنانا ہوگا اور ڈیجیٹل میڈیا میں خصوصی کورسز متعارف کروانے چاہئیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ پائیدار ترقی کا مقصد موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران پاکستان نے سچ کو غالب رکھا۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے جعلی اور من گھڑت خبریں پھیلائی جا رہی تھیں، تاہم پاکستانی میڈیا نے بھارتی میڈیا کی فیک نیوز کا ذمہ داری سے جواب دیا، جبکہ جنریشن زی نے بھی سوشل میڈیا پر مہارت کا مظاہرہ کیا۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں ہے، تاہم سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور جرائم کی روک تھام کے لیے ذمہ دارانہ طرز عمل اور مؤثر نظام ضروری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ