20 سال پہلے چوری ہوئی پینٹنگ اے آئی نے ڈھونڈ نکالی

اٹلی میں پولیس نے 20 سال قبل چرائی گئی 17 ویں صدی کی ایک نایاب پینٹنگ اے آئی کی مدد سے برآمد کر لی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ پینٹنگ 11 اگست 2004ء کو نیپلز کے قریب واقع چرچ سے چوری ہوئی تھی۔
اس پینٹنگ میں سینٹ ایگنس کی تصویر موجود تھی، جسے چوروں نے تبدیل کر کے ایک عام نوجوان خاتون کی تصویر جیسا بنا دیا تھا، تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس کے اصل فن پارے سے مماثلت کا سراغ لگا لیا۔
نایاب پوکیمون کارڈز نے برطانوی شہری کو کروڑ پتی بنا دیا
اکتوبر 2024ء میں اٹلی کے شہر پارما میں قدیم نوادرات کے سالانہ میلے کے دوران پولیس اہلکار مختلف فن پاروں کی تصاویر لے کر انہیں اپنے ڈیٹا بیس میں شامل کر رہے تھے، اسی دوران چند گھنٹوں کے اندر اے آئی کے نظام نے ایک مشکوک پینٹنگ کی نشاندہی کر دی۔
بعد ازاں رنگوں، نمونوں اور تصویر کی ساخت میں مماثلت کی بنیاد پر پینٹنگ کی اصل شناخت سامنے آ گئی۔
اٹلی کی پولیس نے 2020ء میں چوری شدہ فن پاروں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کرنا شروع کیا تھا، جسے ’اسٹولن ورکس آف آرٹ ڈیٹیکشن سسٹم‘ کا نام دیا گیا۔
یہ نظام نومبر 2023ء میں متعارف کروایا گیا تھا جس کے ذریعے انٹرنیٹ، آن لائن نیلام گھروں اور تجارتی ویب سائٹس پر موجود تصاویر کا چوری شدہ فن پاروں کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ نظام اب تک 300 سے زائد بڑی پینٹنگز اور مجسمے، جبکہ 1 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ دیگر نوادرات برآمد کرنے میں مدد دے چکا ہے، ان برآمد شدہ اشیاء کی مجموعی مالیت 20 کروڑ 30 لاکھ یورو سے تجاوز کر چکی ہے۔
پینٹنگ کی شناخت اور تحقیقات کے بعد اسے 20 مئی 2025ء کو متعلقہ چرچ کے حوالے کر دیا گیا، اب اسے بحال کرنے کے بعد دوبارہ اس کی اصل جگہ پر آویزاں کیا جائے گا۔
بشکریہ روزنامہ جنگ