وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا

وفاقی آئینی عدالت---فائل فوٹو
وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے متعلق مقدمات کی سماعت سے روک دیا، جبکہ ہائی کورٹ کے مختلف بینچز کے چیلنج کیے گئے احکامات بھی معطل کر دیے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ میں روزانہ آرٹیکل 199 کے تحت کئی مقدمات آتے ہیں، کیا عدالت روزانہ کی بنیاد پر آنے والے مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی؟
پی ٹی آئی کارکنوں کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کا معاملہ وفاقی آئینی عدالت پہنچ گیا
سماعت کے دوران سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس بھی پیش ہوئے اور استدعا کی کہ حکمِ امتناعی جاری کرنے سے پہلے مجھے سنا جائے، صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے میں فریقین کو نوٹسز جاری کر رہی ہے، فریقین عدالتی حکم دیکھ کر اپنی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے عبوری احکامات میں 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا، جس کے خلاف خیبر پختون خوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
بشکریہ روزنامہ جنگ