جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

بحرالکاہل پر گزشتہ روز سے فعال جیٹ اسٹریم کیا ہے؟

تازہ ترین
بحرالکاہل پر گزشتہ روز سے فعال جیٹ اسٹریم کیا ہے؟

بحرالکاہل کے اوپر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جیٹ اسٹریم غیر معمولی 330 سے 370 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

اس جیٹ اسٹریم کی وجہ بحرالکاہل میں ایل نینو کے مضبوط پیٹرن کا سرگرم ہونا ہے، ایل نینو کی وجہ سے سمندر کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے، جو ماحول میں شدید توانائی پیدا کرتا ہے اور سردیوں کے آغاز میں ہی بحرالکاہل کے جیٹ اسٹریم کو معمول سے بہت زیادہ طاقتور اور وسیع بنا رہا ہے۔

زمین سے تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار فٹ کی بلندی پر جیٹ اسٹریم کی رفتار انتہائی طاقتور مانی جاتی ہے۔

ایران: دورانِ پرواز طیارے کا ٹائر پھٹ گیا، شدید جھٹکوں سے سامان گر گیا، مسافروں میں خوف و ہراس

ماہرین کے مطابق جیٹ اسٹریم کے سب سے مضبوط حصے میں ہواؤں کی رفتار 180 سے 200 ناٹس (تقریباً 330 سے 370 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ایک روٹ کے مسافر طیاروں کو ملنے والی از خود تیز رفتاری سے فی گھنٹہ کروڑوں روپے کے فیول کی بچت ہو رہی ہے۔

جیٹ اسٹریم کے پیچھے قدرت کی اہم سائنس ہے، بحرالکاہل پر پرواز کرنے والے مسافر طیارے جب مغرب سے مشرق کی طرف یعنی ایشیاء یا جاپان سے امریکا کی طرف پروازیں کرتے ہیں تو وہ ہوا کے ان تیز دھاروں یعنی جیٹ اسٹریم کا سہارا لیتے ہیں، یہ تیز ہوائیں طیاروں کو پیچھے سے دھکا دیتی ہیں۔

ٹیل ونڈ کی وجہ سے پروازیں اپنے مقررہ وقت سے بہت پہلے منزل پر پہنچ جاتی ہیں اور فیول کی غیر معمولی بچت ہوتی ہے جبکہ مخالف روٹ کی پروازیں اضافی فیول کے اخراجات برداشت کر رہی ہیں، وہیں مغرب کی طرف امریکا سے ایشیاء آنے والی پروازوں کو ان شدید ہواؤں (ہیڈ ونڈز) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کا وقت اور فیول معمول سے انتہائی زیادہ لگ سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ