جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کر کے سکہ لانے کا فیصلہ

تازہ ترین
حکومت کا 10 روپے کا کرنسی نوٹ ختم کر کے سکہ لانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے 10 روپے کا کاغذی نوٹ ختم کر کے اس کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی۔

یہ فیصلہ وزارتِ خزانہ کی سفارش پر ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں کرنسی نوٹوں کی نئی سیریز کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کابینہ کو مجوزہ ڈیزائنز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے دی

10 روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کرانے کی آخری تاریخ کی افواہیں بےبنیاد ہیں، اسٹیٹ بنک

10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے پر غور

خیال رہے کہ اس سے قبل ستمبر میں اسٹیٹ بینک نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو مسترد کر دیا تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 10 روپے کا کرنسی نوٹ بند کیا جا رہا ہے اور موجودہ نوٹ تبدیل کرانے کے لیے آخری تاریخ بھی مقرر کر دی گئی ہے۔

اس وقت اسٹیٹ بینک نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرنسی نوٹوں کی نئی سیریز متعارف کرانے کی تجویز وفاقی کابینہ کے زیرِ غور ہے اور کسی بھی مالیت کے نوٹ کو تبدیل کرنے یا بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر کرنسی نوٹ واپس لینے کا کوئی فیصلہ کیا گیا تو عوام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا اور بند کیے جانے والے نوٹ تبدیل کرانے کے لیے مناسب مہلت فراہم کی جائے گی۔

اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا تھا کہ مرکزی بینک 10 روپے کا نوٹ بند کرنے پر غور کر رہا ہے، کیونکہ اس کی تیاری کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اسٹیٹ بینک ماضی میں 2 مرتبہ 10 روپے کے نوٹ کو بند کرنے کی کوشش کر چکا ہے، تاہم وفاقی کابینہ کے تازہ فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 10 روپے کا موجودہ کرنسی نوٹ کب قانونی طور پر قابلِ استعمال نہیں رہے گا اور اسے تبدیل کرانے کے لیے آخری تاریخ کیا ہو گی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ