امریکی امداد کے خاتمے کے بعد آرڈر شدہ طیاروں و ہتھیاروں کی ادائیگی کیسے ہو گی؟ اسرائیلی حکام نے سر جوڑ لیے

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو—فائل فوٹو
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی امداد ختم کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل کے اسلحے کے معاہدے غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو گئے۔
اسرائیلی حکام کو پہلے سے آرڈر کیے گئے لڑاکا طیاروں کی ادائیگی کے طریقہ کار پر تشویش ہے، جبکہ فوج 3 سالہ جنگ کے دوران ختم ہونے والے گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ ذخیرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو امریکی امداد بند کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل کے دفاعی اور مالیاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پہلے سے آرڈر کیے گئے ہتھیاروں کی ادائیگی اور 3 سالہ جنگ کے دوران ختم ہونے والے فوجی ذخائر کی دوبارہ فراہمی کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے؟
اسرائیل کو مزید امداد نہیں دے سکتے، یہ اس سال کے اختتام پر رک جائے گی: ٹرمپ
ٹرمپ نے گزشتہ روز فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی امداد کی سالانہ مالیت 4 ارب ڈالرز بتائی اور کہا کہ میں نے کئی ماہ قبل اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ اسے بند کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اب اسرائیل کو مزید ادائیگی نہیں کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر واشنگٹن اسرائیل کی مدد جاری رکھے گا اور اسے اسلحہ فروخت کرتا رہے گا۔
اسرائیلی میڈیا چینل 12 کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزارتِ خزانہ کو اس منصوبے کا پہلی مرتبہ علم ہوا، امریکا کی جانب سے سالانہ 3.8 ارب ڈالرز کی فوجی امداد سے 2027ء اور 2028ء کے اسرائیلی دفاعی بجٹ کی مالی معاونت متوقع تھی۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود یہ اعلان غیر متوقع تھا۔
عہدیدار کے مطابق متعلقہ اداروں کو ابھی تک اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیں گے۔
اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اس اعلان سے محض دو ہفتے قبل 20 اکتوبر کو اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ایک وفد نے مستقبل میں اسلحے کی خریداری کے حوالے سے امریکی فوج کے سیکیورٹی اسسٹنس کمانڈ کے حکام سے بات چیت کے لیے ریاست الاباما کا دورہ کیا تھا۔
نشریاتی ادارے کے معاشی تجزیہ کار شاؤل ایمسٹردامسکی کا اندازہ ہے کہ اگر امریکی امداد کی بندش جنوری سے شروع ہوتی ہے تو اسرائیل کے دفاعی بجٹ میں فوری طور پر سالانہ 12 ارب شیکل (3.8 ارب ڈالرز) کا خلاء پیدا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ 2016ء میں طے پانے والی 10 سالہ مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا نے 2028ء تک اسرائیل کو 38 ارب ڈالرز کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
دونوں ممالک نے اس معاہدے کے بعد کے انتظامات کے لیے مئی میں باضابطہ مذاکرات شروع کیے تھے، تاہم ٹرمپ کے تازہ اعلان کے موجودہ معاہدوں اور ان مذاکرات پر ممکنہ اثرات تاحال واضح نہیں ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ