بالوں کی نشو و نما کیلئے کون سا تیل بہتر؟ تیل لگانے کی درست مقدار اور طریقہ کیا ہے؟

صدیوں سے خشکی، بالوں کی ٹوٹ پھوٹ، گرنے اور گنج پن کا علاج تیل سے کیا جا رہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سر پر تیل لگانے سے بالوں کے تیزی سے بڑھنے کے دعوے کے ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کی نشوونما سر کی جلد میں موجود جڑوں سے ہوتی ہے جن پر موروثی عوامل، ہارمونز، غذا اور مجموعی صحت اثر انداز ہوتی ہے۔
تیل لگانے سے بالوں کی جڑیں تیزی سے نشو و نما نہیں پاتیں البتہ بالوں کو نرم رکھنے، موسمیاتی تبدیلی اور ٹوٹنے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بالوں کے لیے کون سا تیل بہتر؟
1. ناریل کا تیل: تحقیق کے مطابق ناریل کا تیل بالوں سے پروٹین کے ضیاع کو کم کرنے اور انہیں ٹوٹنے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، خصوصاً خشک اور خراب بالوں کے لیے۔
2. آرگن کا تیل: بالوں کی خشکی، الجھاؤ اور روکھے پن کو کم کر کے انہیں نرم اور چمک دار بنانے میں مدد دیتا ہے۔
3. بادام کا تیل: بالوں میں نمی برقرار رکھنے اور کنگھی کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مفید ہوتا ہے تاہم بال بڑھانے کے حوالے سے سائنسی شواہد محدود ہیں۔
بالوں میں تیل لگاتے وقت کونسی غلطیاں نہیں کرنی چاہیے؟
4. روز میری کا تیل: ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ابتدائی تحقیقات میں بالوں کے جھڑنے کے خلاف اس تیل کے ممکنہ فوائد سامنے آئے ہیں تاہم مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
روز میری آئل کو براہِ راست سر کی جلد پر لگانے کے بجائے کسی دوسرے تیل میں ملا کر استعمال کرنا چاہیے۔
5. ارنڈی کا تیل (کسٹر آئل): کسٹر آئل بالوں کو گھنا اور لمبا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن بالوں کی نشو و نما بڑھانے کے حوالے سے اس کے مؤثر ہونے کے ٹھوس سائنسی شواہد موجود نہیں۔
ہفتے میں کتنی بار تیل لگانا چاہیے؟
ماہرین کے مطابق ہر شخص کے بالوں کی نوعیت اور سر کی جلد مختلف ہوتی ہے، اس لیے تیل لگانے کا کوئی ایک مقررہ معمول نہیں، عام طور پر ہفتے میں 1 سے 2 مرتبہ بال دھونے سے پہلے تیل لگانا مناسب ہے، تیل کو رات بھر لگائے رکھنا ضروری نہیں، کچھ دنوں بغیر تیل لگائے بال دھونا بھی کافی ہوتا ہے۔
کیا تیل لگانے سے ہیئر ڈرائر و اسٹریٹنر کا نقصان کم ہوتا ہے؟
بار بار ہیئر ڈرائر، اسٹریٹنر اور کرلنگ مشین استعمال کرنے سے بال خشک، کمزور اور ٹوٹنے لگتے ہیں، تیل بالوں کو نرم رکھنے اور رگڑ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے تاہم یہ حرارت سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
بالوں کو حرارت سے بچانے والی مخصوص مصنوعات استعمال کرنا، زیادہ درجۂ حرارت سے گریز اور گیلے بالوں کو نرمی سے سلجھانا ضروری ہے۔
بالوں کا جھڑنا و ٹوٹنا ایک جیسی کیفیت نہیں
ماہرین کے مطابق بالوں کا ٹوٹنا عموماً حرارت، کیمیائی مصنوعات اور سختی سے کنگھی کرنے کے باعث ہوتا ہے جبکہ بالوں کا جھڑنا موروثی عوامل، ہارمونز، بیماری، ذہنی دباؤ، ادویات اور غذائی کمی کے باعث بھی ہوتا ہے۔
اگر بال مسلسل جھڑ رہے ہوں، اچانک زیادہ مقدار میں گرنے لگیں یا سر کی جلد پر خارش، سرخی اور سوزش ہو تو جلد کے ماہر سے رجوع کرنا چاہیے، ایسی صورت میں صرف تیل لگانا مسئلے کا حل نہیں۔
صحت مند بالوں کیلئے ضروری احتیاطیں
بالوں میں تیل لگانے کے پانچ حیرت انگیز فوائد
متوازن غذا، مناسب مقدار میں پروٹین، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کا استعمال بالوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔
اس کے علاوہ مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور بالوں کی نرم انداز میں دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ غذائی سپلیمنٹس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
ماہرین کے مطابق بالوں میں تیل لگانے سے ان کی خوبصورتی، نرمی اور مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے لیکن تیزی سے بال بڑھانے کے لیے کسی بھی تیل کو یقینی علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ