را سے تعلق و ریاست مخالف سازش کے الزامات ثابت نہ ہوئے، ملزم کی عمر قید کی سزا ختم

سندھ ہائی کورٹ نے بھارتی خفیہ تنظیم ’را‘ کے مبینہ ایجنٹ محمد سلیم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ریاست کے خلاف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات کے تحت سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے دھماکا خیز مواد رکھنے کے الزام میں ملزم کی عمر قید کی سزا کم کر کے 10 سال قید میں تبدیل کر دی جبکہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں 10 سال قید اور جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے بھارت کے دوروں کی سفری تاریخ ’را‘ سے تعلق یا ریاست کے خلاف سازش کا ثبوت نہیں، استغاثہ مبینہ ساتھیوں سے رابطے، سازش یا ریاست کے خلاف جنگ کی تیاری کے قابلِ اعتماد شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کو مجموعی طور پر 109 سال قید کی سزا
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دھماکا خیز مواد اور اسلحے کی برآمدگی سے خود باخود دہشت گردی کا جرم ثابت نہیں ہوتا بلکہ دہشت پھیلانے کا مخصوص ارادہ اور مقصد ثابت کرنا ضروری ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق 7 اکتوبر 2024ء کو خصوصی تحقیقاتی یونٹ نے منوڑا میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے پستول، دھماکا خیز مواد، آوان بم، راکٹ لانچر اور 2 پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو 3 مرتبہ عمر قید اور دیگر الزامات میں 34 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم پر عائد تمام الزامات بے بنیاد اور بے ثبوت ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ