یونان کشتی سانحہ: ایف آئی اے اہلکاروں کی بحالی کا حکم برقرار

فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے یونان کشتی سانحے کے بعد برطرف کیے گئے ایف آئی اے اہلکاروں کی بحالی سے متعلق ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 40 درخواستیں نمٹا دیں۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم کارروائی کے دوران انہیں سماعت کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔
سماعت کے دوران ایف آئی اے کے وکیل راجہ شفقت عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور، کراچی اور ملتان ایئرپورٹس پر تعینات افسران مسافروں کی جانچ پڑتال کے پابند تھے۔ افسران کو مسافروں کے لیبیا جانے کے مقصد کی بھی چھان بین کرنی چاہیے تھی۔
ایف آئی اے کے وکیل کے مطابق اہلکاروں کی سنگین غفلت انسانی اسمگلنگ میں سہولت کاری کا باعث بنی، جبکہ محض ضابطے کی خامیوں کی بنیاد پر انہیں بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اہلکاروں کو سماعت اور جرح کا موقع فراہم کرکے نئی انکوائری کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ یونان کشتی سانحے کے بعد ایف آئی اے نے تقریباً 40 افسران کو برطرف کیا تھا۔ ٹریبونل نے طریقہ کار کی خامیوں اور برطرف اہلکاروں کو جرح کا موقع نہ دیے جانے کی بنیاد پر برطرفیوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ٹریبونل کا حکم برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ ٹھوس شواہد کی موجودگی میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ