بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیلی انتخابات: ڈبل لفافوں میں ڈالے گئے ووٹ نتائج کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، یہ نظام کیا ہے؟

تازہ ترین
اسرائیلی انتخابات: ڈبل لفافوں میں ڈالے گئے ووٹ نتائج کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، یہ نظام کیا ہے؟

فوٹو: امریکی میڈیا

اسرائیل میں انتخابات کے بعد ابتدائی نتائج سامنے آنے کے باوجود ووٹوں کی گنتی کا عمل کئی گھنٹے اور بعض اوقات کئی دن تک جاری رہ سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ ووٹنگ کا خصوصی طریقہ کار ہے جسے ’’ڈبل انویلپ‘‘ یا دہرے لفافے کا نظام کہا جاتا ہے۔

اسرائیل میں زیادہ تر ووٹرز اپنے مخصوص پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالتے ہیں، جن کی گنتی پولنگ ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ تاہم فوجی اہلکار، قیدی، اسپتالوں میں زیر علاج مریض اور عملہ، بیرون ملک تعینات سفارت کار اور معذور ووٹرز دہرے لفافے کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

حملے کا خوف، نیتن یاہو نے پارٹی کا طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا

اس طریقہ کار کے تحت ووٹر اپنا خفیہ ووٹ ایک اندرونی لفافے میں ڈالتا ہے، جسے ذاتی تفصیلات پر مشتمل بیرونی لفافے میں بند کیا جاتا ہے۔ یہ لفافے مرکزی انتخابی کمیٹی کو منتقل کیے جاتے ہیں، جہاں بیرونی لفافوں کی تفصیلات کا رجسٹرڈ پولنگ اسٹیشنوں کے ریکارڈ سے موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ کسی ووٹر نے دو مرتبہ ووٹ نہیں ڈالا۔

ووٹ کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد اندرونی لفافے الگ کرکے ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے۔ اس تصدیقی عمل میں وقت لگتا ہے، جس کے باعث انتخابی رات سامنے آنے والے ابتدائی نتائج میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔

اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کیلئے بڑا چیلنج بننے والے گادی آئزنکوٹ کون ہیں؟

مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق اس سال دہرے لفافوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔ کمیٹی کو توقع ہے کہ تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار اسرائیلی ووٹرز اس طریقے سے ووٹ ڈالیں گے، جبکہ 2022 کے انتخابات میں یہ تعداد 4 لاکھ 60 ہزار تھی۔

اس اضافے کی بنیادی وجہ بڑی تعداد میں فوجی ریزرو اہلکاروں کی تعیناتی بتائی جا رہی ہے، جو اپنے آبائی علاقوں سے دور ہونے کے باعث وہاں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔

اندازوں کے مطابق ان ووٹوں کی گنتی سے انتخابی رات تقریباً 15 نشستوں کے نتائج متاثر ہوسکتے ہیں، جس سے مختلف سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ہے۔

ماضی میں دہری لفافوں کے ووٹ عموماً ایک سے دو نشستوں کا فرق ڈالتے رہے ہیں۔ تاہم ان ووٹروں کی نوعیت کے باعث انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں اور عرب جماعتوں کے نتائج پر ان کا اثر پڑ سکتا ہے۔

خصوصاً وہ جماعتیں جو پارلیمان میں نشست حاصل کرنے کے لیے مقررہ 3.25 فیصد انتخابی حد کے آس پاس ہوں، ان کے لیے یہ ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ