بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

رابرٹ کلائیو: جنھیں احساس جرم نے اپنا ہی گلا کاٹنے پر مجبور کر دیا

رابرٹ کلائیو: سراج الدولہ کو پلاسی میں شکست دینے والے جرنیل جنھیں احساسِ جرم نے اپنا ہی گلا ریتنے پر مجبور کیا

  • مرزا اے بی بیگ
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

رابرٹ کلائیو

،تصویر کا ذریعہAFP

انگریزی کے معروف شاعر جان ملٹن نے اپنی مشہور نظم ’پیراڈائز ریگینڈ‘ یعنی جنت کی بازیابی کے ایک شعر میں لکھا ہے کہ ‘بچپن انسان کے مستقبل کا آئینہ دار ہوتا ہے جس طرح صبح دن کی نوید ہوتی ہے۔’

ملٹن کا یہ معروف قول ‘چائلڈ شوز دی مین ایز مورننگ شوز دی ڈے’ کسی پر صادق آئے یا نہ آئے لیکن انگلینڈ کے شروپ شائر گاؤں کے سٹیچی ہال میں 29 ستمبر سنہ 1725 کو پیدا ہونے والے رابرٹ کلائیو پر ضرور صادق نظر آتا ہے جن کے ایک خواب نے انھیں انگلستان اور پورے یورپ کا ہیرو بنا دیا جبکہ ہندوستان کو دو سو سال تک کا طوق غلامی پہنا دیا۔

کلائیو کے بارے میں پلاسی کی جنگ پر کتاب لکھنے والے تاریخ داں سدیپ چکرورتی ایک انٹرویو میں کلائیو کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے وہ اجتماع الضدین ہوں۔

وہ کہتے ہیں: ‘رابرٹ کلائیو صدیوں تک ایک ہی ساتھ بہادر فاتح اور ساز باز کرنے والے ولن رہے۔’

ان کے مطابق ‘وہ اپنی عمر کے حساب سے بیک وقت ایک لڑکے اور ایک پختہ کار مرد تھے جو انڈیا کے اپنے پہلے سفر کے دوران تقریباً ڈوبتے ڈوبتے بچے تھے، جو کہ بدیہی طور پر روشن دماغ، بدمعاش اور تنگ کرنے والے کہے جا سکتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں وہ فوجی کمانڈر اور بے رحم جنگجو رہے۔

‘ایک ہی وقت میں کامیابی اگر سر چڑھ کر بول رہی تھی تو ڈپریشن کے سبب افیون بھی سرچڑھ کر بولنے لگی تھی۔ ایک ہی وقت میں ان کی نظر تصویر کے بڑے رخ پر ہوتی تھی لیکن وہ جزیات کی باریک سے باریک تفصیل پر بھی نظر رکھتے تھے۔

‘ایک ہی وقت میں وہ بااصول اور ناقابل بھروسہ شخص بھی تھے۔ اگر ایک جانب ان کی نظر اپنے مقصد پر مرتکز تھی تو دوسری جانب وہ کسی بکری کی طرح حریص ثابت ہوئے کیونکہ ان کے لیے سب سے زیادہ بلند آواز سکوں کی کھنک کی تھی۔ پلاسی کے معمار کلائیو 18ویں صدی کے ایسے نو دلتیے تھے جیسے کسی کا خواب اچانک سچ ثابت ہو جائے۔’

ان کے بارے میں سدیپ چکرورتی کہتے ہیں کہ ‘شاید وہ پہلے سفید فام مغل تھے۔ وہ تاریخ میں اہم تھے اور اہم ہی رہیں گے۔’

کلائیو

،تصویر کا ذریعہPrint Collector/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

آرکوٹ میں خندق کھودتے ہوئے رابرٹ کلائیو کو ایک پینٹنگ میں پیش کیا گیا ہے

کلائیو کا بچپن اور گینگ لیڈر

انگریزی کے معروف تاریخ داں اور انڈیا میں انگریزی تعلیم کو متعارف کرانے والے تھامس بیبنگٹن میکالے نے رابرٹ کلائیو کی فتوحات کے تقریباً ایک سو سال بعد ان پر ایک مضمون لکھتے ہوئے انگلینڈ کو اپنی تاریخ سے انجان اور اپنے ہیروز سے ناآشنا ہونے پھر پھٹکار لگاتے ہوئے رابرٹ کلائیو کی سوانح لکھی ہے۔

انھوں نے لکھا: ‘بچپن میں ہی رابرٹ کلائیو کی وہ خاصیتیں جن کے لیے وہ سنِ رسیدگی کے زمانے میں مشہور ہوئے نمایاں ہونے لگیں۔ جب وہ سات سال کے تھے تو ان کے بارے میں لکھے ہوئے ان کے خاندان کے چند خطوط موجود ہیں جس سے واضح ہے کہ وہ اس زمانے میں بھی نہایت تندخو اور ضدی تھے جس کی وجہ سے وہ زیادہ تر گھر سے دور رکھے جاتے تھے۔ ان کے ایک رشتہ دار (شاید خالو) نے ایک خط میں لکھا: ‘وہ ہر دم دنگا فساد کرتا رہتا ہے۔ اسے اس کی عادت پڑ گئی ہے۔ اور ایسا سر زور اور تند مزاج ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر بھاگ جاتا ہے۔’

میکالے لکھتے ہیں کہ ‘بستی کے بوڑھے بزرگوں کو اپنے والدین سے سنا ہوا قصہ اب تک یاد ہے کہ ایک مرتبہ کلائیو مارکیٹ ڈریٹن کے بلند مینار کی ایک چھجی پر جا بیٹھا جس سے سارے علاقے میں تہلکہ مچ گیا اور یہ یقین ہو گیا کہ وہ وہاں سے گر کر پاش پاش ہو جائے گا۔’

وہ مزید لکھتے ہیں: ‘وہ لوگ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس نے علاقے کے سب شریر اور آوارہ لڑکوں کو جمع کر کے لٹیروں کی ایک فوج بنا لی تھی۔ اور ہر دکاندار سے بطور خراج سیب یا نصف پیسہ وصول کرتا تھا۔ اس کے عوض وہ ان کی گٹھریوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری لیتا تھا۔ ہر جگہ وہ از حد شرارتی لڑکا کہلاتا تھا۔

‘کہتے ہیں کہ ایک ٹیچر نے اس کی وضع اور چلن دیکھ کر پیشگوئی کی تھی کہ وہ دنیا میں ضرور کوئی بہادری کا کام کرے گا لیکن پڑوسیوں کی متفقہ رائے تھی کہ وہ نکما اور ناکارہ ہے۔۔۔’

میکالے کے مطابق ‘ان کے والدین کو کوئی امید نہ تھی کہ اس ضدی و سرکش لڑکے سے کوئی کار مفید ہو سکے گا۔ اس لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب وہ اٹھارہ سال کا ہوا تو والد نے اپنی جان چھڑانے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی میں اسے محرر کی نوکری دلا کر جہاز پر بٹھا کر مدراس کر دیا کہ یا تو روٹی کما کھائے یا بخار سے مر جائے۔’

کلائیو کی فتوحات

،تصویر کا ذریعہPrint Collector/Getty Images

ہندوستان کا پہلا سفر

رابرٹ کلائیو کو اپنے پہلے سفر میں ہی شدید پریشانیوں کا سامنا رہا۔ برازیل کے ساحل پر ان کے جہاز کو تقریباً نو ماہ رکنا پڑا لیکن اس قیام سے انھوں نے فائدہ اٹھایا اور پرتگالی زبان میں شد بد پیدا کر لی۔

خیال رہے کہ اس زمانے میں ہندوستان میں تجارتی سبقت حاصل کرنے کے لیے یورپی ممالک کے درمیان آپس میں جنگی صورت حال تھی۔ ایک جانب فرانسیسی اپنا سکہ بٹھانا چاہتے تھے تو دوسری جانب مغربی ساحل گوا پر پرتگالیوں کی اجارہ داری تھی۔

اس وقت برطانیہ کا خاطر خواہ اثرو رسوخ نہیں تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی اور شاہ انگلینڈ کے ایلچی سر تھامس رو جہانگیر کے دربار سے بہت کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

لیکن اس وقت تک ایسٹ انڈیا کمپنی نے مدراس کے پاس ایک چھوٹا سا اڈہ فورٹ سینٹ جارج کے نام سے قائم کر لیا تھا۔ خیال رہے کہ مدراس آج انڈیا کا جنوبی شہر چینئی ہے اور ریاست تمل ناڈو کا دارالحکومت ہے۔

کلائیو کی آمد جون سنہ 1744 میں اسی فورٹ سینٹ جارج میں ہوئی جہاں انھوں نے دو سال حساب کتاب رکھنے اور انڈیا کے سپلائر کے ساتھ مال کی مقدار اور کوالٹی پر جھگڑتے نظر آئے۔

برطانیہ کے مورخ اور ناول نگار ولیم ڈیلرمپل نے اپنی کتاب ‘دی اینارکی’ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام، کارپوریٹ کے تشدد اور ایک سلطنت میں لوٹ مار اور غارتگری کی داستان بیان کی ہے۔ انھوں نے کلائیو کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کسی سے نہ بات کرنے والا اپنے آپ میں رہنے والا سماج دشمن اور غیر مستحکم ذہنی کیفیت والا انسان تھا۔

مارکیٹ ڈریٹن

،تصویر کا ذریعہWikipedia

،تصویر کا کیپشن

مارکیٹ ڈریٹن کا گرجا گھر جس پر کبھی کلائیو چڑھ گئے تھے

لیکن اسے اس وقت ایک موقع مل گیا جب فرانسیسیوں نے مدراس کے فورٹ پر حملہ کر لیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سے کلائیو کسی طرح سے نکل کر تقریباً 60 کلومیٹر دور مزید جنوب میں کڈڈالور پہنچا جہاں انھوں نے فورٹ سینٹ ڈیوڈ کی حفاظت میں اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔

اور فورٹ سینٹ ڈیوڈ میں انگریز فوجیوں کے ذمہ دار کے طور پر جب میجر سٹرنگر لارنس آئے تو انھوں نے کلائیو کی بہادری کو پہچانا۔ اس دوران فرانسیسیوں اور نوابوں کی ٹکڑیوں سے انگریزوں کی چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔

سنہ 1748 میں کلائیو کی زندگی میں ایک اہم موڑ تنجور کی مہم کے ساتھ آیا جس میں میجر لارنس نے قلعے پر حملے کے لیے کلائیو کو 30 برطانوی فوجی اور 700 دیسی سپاہیوں کی کمان سونپی اور کلائیو نے انتہائی تیزی کے ساتھ حملہ کیا لیکن وہ اپنے ساتھیوں سے کٹ گیا۔ بہرحال لارنس کی جانب سے بروقت کمک کی وجہ سے وہ کامیاب رہا اور قلعہ پر فتح نصیب ہوئی۔’

پے در پے کامیابوں کے سلسلے نے نہ صرف کلائیو کی جھولی بھر دی بلکہ وہ انگلینڈ میں قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اس جیت کے بعد شاہ انگلینڈ نے انھیں ‘ہیون بارن جنرل’ یعنی خداداد صلاحیت کا حامل جنرل کہا جس نے سپہ گری کی نہ کوئی تربیت لی تھی اور نہ تعلیم حاصل کی تھی۔

اسی دوران اس کی شادی مارگریٹ ماسکینلی سے ہوئی۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کلائیو ان کی تصویر سے عشق کر بیٹھا۔ ان کی شادی مدراس کے سینٹ میری چرچ میں 18 فروری سنہ 1753 کو ہوئی اور پھر وہ واپس انگلینڈ روانہ ہو گئے۔

فور سینٹ جارج مدراس

،تصویر کا ذریعہDEA / ICAS94/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

مدراس کا فور سینٹ جارج

انگلینڈ میں ناکامی اور خفت

ولیم ڈیلرمپل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک تجارت تھی جب 25 مارچ سنہ 1755 کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائریکٹرز نے 30 سال کے کلائیو کو دوبارہ کمپنی میں شامل کیا۔

انھوں نے لکھا کہ ‘یہ تمام پارٹیوں کے لیے حیران کن بات تھی کہ 18 ماہ قبل ہی کلائیو نے کمپنی سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی کیونکہ 28 سال کی عمر میں انھوں نے انڈیا سے اپنے لیے خاطر خواہ دولت حاصل کر لی تھی۔

’وہ سیاست میں داخل ہونے کے مقصد کے تحت انگلینڈ لوٹے تھے اور انھوں نے فوری طور پر اپنی دولت سے ایک خستہ حال قصبہ (جسے فرمان شاہی کے مطابق انتظامی حقوق حاصل تھے) سے نمائندگی حاصل کر لی۔ بہرحال ویسٹ منسٹر میں ان کی ایک نہیں چلی اور انھیں ہاؤس آف کامنز سے انتخابات میں دھاندلی کے سبب نکال دیا گیا۔۔۔’

انھوں نے مزید لکھا: ‘اپنی نئی نئی حاصل کردہ دولت سے انھوں نے منتخب ہونے کے لیے رشوت دینے کی بہت کوشش کی لیکن انھیں خفت ہی ہاتھ لگی۔ اب وہ بے روزگار تھے اور جیب بھی خالی ہو چکی تھی۔ ایسے میں انڈیا میں دوسرا موقع کلائیو کے لیے بہترین آپشن تھا تاکہ اپنی قسمت کو بحال کر سکیں اور پھر کسی دوسرے وقت پارلیمان میں قسمت آزمائی کر سکیں۔’

یہ بھی پڑھیے

سنہ 1756 میں علی وردی خان کے پوتے سراج الدولہ بنگال کے نواب کے طور پر مسند نشین ہوئے۔ بنگال اس وقت ہندوستان کا سب سے امیر صوبہ (ایک طرح سے خود مختار ریاست) تھا۔ لیکن انھیں اس بات کا علم تھا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کا وہاں ایک طرح سے تسلط قائم ہوتا جا رہا ہے۔

جب انھوں نے اپنی فیکٹریوں کی قلعے بندی شروع کر دی تو سراج الدولہ کو احساس ہوا کہ یہ یورپی انھیں حاصل اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے ان سے جواب طلب کیا۔

سراج الدولہ ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور انھوں نے 16 جون سنہ 1756 کو کلکتے پر حملہ کردیا جہاں دریائے ہگلی کے کنارے فورٹ ولیم انگریزوں کو پناہ دینے کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھا۔

لیکن سراج الدولہ کی فوج کے سامنے ان کی ایک نہیں چلی اور جب گورنر جان ڈریک کو یہ محسوس ہوا کہ شکست یقینی ہے تو وہ اپنے کمانڈر اور بیشتر خواتین اور بچوں کے ساتھ ہگلی دریا میں کھڑے جہاز سے نکل بھاگے اور ایک جونیئر افسر جوناتھن ہاول کے حوالے قلعہ چھوڑ دیا۔

سراج الدولہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہBLOOMSBURY PUBLICATION

،تصویر کا کیپشن

سراج الدولہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ

بلیک ہول کی کہانی

چار دن بعد سراج الدولہ قلعے میں داخل ہوئے اور فتح کے طور پر شکرانے کی نماز ادا کی۔ ان کے سامنے ہال ویل کو پیش کیا گیا جنھوں نے اپنی تصنیف ‘انٹیرسٹنگ ایونٹس ریلیٹڈ ٹو پراونس آف بنگال میں لکھا ہے کہ ‘میرا ہاتھ باندھ کر نواب کے سامنے پیش کیا۔ نواب نے میرے ہاتھ کھولنے کا حکم دیا اور یہ یقین دلایا کہ ان کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہ کی جائے گی۔’

اور پھر انھوں نے لکھا کہ ‘لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد شام ہوتے ہوتے ان کے اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ نواب کے فوجیوں کا سلوک بدل گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نشے میں چور ایک انگریز سپاہی نے نواب کے فوجی کو گولی مار دی تھی۔’

جب اس کی خبر سراج الدولہ کو ملی تو انھوں نے پوچھا کہ بدسلوکی کرنے والوں کو کہاں رکھا جاتا ہے تو انھیں بتایا گیا کہ جیل خانے میں۔ انھیں یہ مشورہ دیا گیا کہ ان کو کھلے میں چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے انھیں جیل کے کمرے میں بند کر دیا جائے۔

کہا جاتا ہے کہ 146 قیدیوں کو ایک 18 فٹ لمبے اور 14 فٹ چوڑے کمرے میں ٹھونس دیا گیا جن میں سے 23 قیدی ہی وہاں سے زندہ نکلے۔

بہرحال بعد کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ اول یہ کہ اس تنگ کمرے میں اتنے لوگ سما ہی نہیں سکتے تھے، دوسرا یہ کہ جن 123 لوگوں کو ہال ول نے مردہ قرار دیا ان میں سے صرف 56 لوگوں کے ریکارڈ ملتے ہیں۔

بہرحال یہ خبر آگ کی طرح انگلینڈ میں پھیل گئی اور اسے ’بلیک ہول ٹریجڈی‘ کے نام سے بربریت کی انتہا قرار دیا گیا اور انتقامی کارروائی کی مانگ ہونے لگی۔

اس وقت کلائیو مدراس کے پاس کڈڈالور کے فورٹ سینٹ ڈیوڈ کے نائب گورنر تھے اور انھیں برطانوی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز کیا جا چکا تھا۔

سال کے اخیر تک نواب سے کلکتے کے متعلق خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا لیکن کوئی جواب نہ ملنے کی صورت میں چارلس واٹسن اور کلائیو کو حکم دیا گیا کہ وہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے نواب کی فوج کو وہاں سے ہٹائیں۔

کلائیو نے اس حکم کے بعد بری راستے سے سفر کا انتخاب کیا جبکہ واٹسن نے بحری راستے کا انتخاب کیا اور انھوں نے انتہائی آسانی سے دو جنوری سنہ 1857 کو کلکتے کو واپس اپنے قبضے میں لے لیا۔

جبکہ تقریباً ایک ماہ بعد کلائیو نے نواب کی ایک بڑی فوج کا سامنا کیا اور ایک چھوٹی سی ٹکڑی کے ساتھ نواب کے خیمے پر دھاوا بولتے ہوئے بحفاظت فورٹ ولیم میں واپسی کی۔

پلاسی کی جنگ کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

پلاسی کی جنگ کا ایک منظر

پلاسی کی جنگ

پھر معاہدوں اور مذاکرات کا دور شروع ہوا لیکن بات نہ بنی 21 جون کو مون سون کی ابتدا میں کلائیو نے نواب کے ہیڈکوارٹر مرشدآباد سے چند میل کے فاصلے پر پلاسی میں آم کے باغات میں اپنی فوج کو ٹھہرایا۔

کلائیو کی تین ہزار 300 فوجیوں پر مشتمل فوج کے سامنے نواب کی تقریباً 70 ہزار کی فوج تھی اور نو توپوں کے مقابلے میں 53 توپیں تھیں۔

کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں پہلی بار کلائیو کو تشویش لاحق ہوئی اور انھوں نے اپنے 16 افسروں کو مشورے کے لیے بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ حملہ کیا جائے یا پھر کسی قسم کی دیسی کمک کا انتظار کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ کلائیو نے سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر اور بہت سے دیگر اہم جاگیرداروں سے ساز باز کر رکھی تھی۔

میکالے نے لکھا ہے کہ وہ حملے میں تاخیر کے حق میں ووٹ دینے والوں میں شامل تھے لیکن پھر انھوں نے اسی سراسیمگی کی حالت میں تنہائی اختیار کی اور اپنی رائے بدل ڈالی۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ایک خواب دیکھا جس کے بعد انھوں نے حملے کا فیصلہ کیا۔

ان کے خواب کو ایک مشہور نظم میں بیان کیا گیا کہ کس طرح انھوں نے خون آلودہ دریا دیکھا اور کہا کہ خدا سرخ کے ساتھ ہے۔’

پلاسی کے بعد میر جعفر سے ملاقات کا منظر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

پلاسی کے بعد میر جعفر سے ملاقات کا منظر

صبح پو پھٹنے سے پہلے ہی دریا میں جہاز تیرنے لگے اور کلائیو کے تقریبا 3300 سپاہی نو توپوں کے ساتھ دریا پار اتر گئے۔

میر جعفر اور جگت سیٹھ کے ساتھ کلائیو کا معاہدہ پہلے سے طے تھا۔ پہلے ہی حملے میں سراج الدولہ کی فوج کے اوسان خطا ہو گئے۔ ان کی توپیں بارش کے وجہ سے تقریباً بیکار ہو گئیں اور ایک ہی دن میں 22 فوجیوں کی موت اور چار درجن زخمیوں کے نقصان کے ساتھ کلائیو نے جنگ جیت لی جو کہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

23 جون 1757 کو پلاسی کی جنگ ہارنے کے بعد، سراج الدولہ اونٹ پر سوار ہو کر بھاگ نکلے اور مرشد آباد پہنچ گئے۔ اگلے ہی دن رابرٹ کلائیو نے میر جعفر کو ایک نوٹ بھیجا جس میں لکھا تھا: ‘میں آپ کو اس جیت پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ جیت میری نہیں آپ کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ مجھے آپ کو نواب بنانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔’

میر جعفر کو صوبیدار بنا کر کلائیو نے دیوانی کے سارے معاملات انگریزوں کے ماتحت کر دیے جبکہ صوبے کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری نواب کے ہاتھ میں رہنے دی۔ اس کو بعد میں ‘دوہرے نظام’ سے تعبیر کیا گیا۔

کلائیو کا انڈیا سے حاصل کیا جانے والا خزانہ

،تصویر کا ذریعہJIM WATSON/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

کلائیو کا انڈیا سے حاصل کیا جانے والا خزانہ

یورپ کے سب سے امیر نو دولتیے

اس کے تحت نہ صرف ایسٹ انڈیا کمپنی بلکہ کلائیو کے پاس دولت کی ریل پیل ہوگئی اور ولیم ڈیلرمپل کے مطابق کلائیو اس وقت ’یورپ کے خود ساختہ سب سے امیر آدمی بن گئے۔‘

کہا جاتا ہے کہ میر جعفر نے کلائیو کو بنگال کے خزانے کا معائنہ کرایا اور ان سے پوچھا کہ ان کی خدمت میں کیا پیش کیا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق کلائیو نے خاطر خواہ مال اپنے لیے رکھا اور باقی کو فوجیوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کر دیا۔

ڈیلرمپل اپنی کتاب ‘دی اینارکی’ میں لکھتے ہیں کہ بنگال کی لوٹ کا خاطر خواہ حصہ کلائیو کی جیب میں گیا۔ اور وہ دو لاکھ 34 ہزار پاؤنڈ کی بڑی دولت کے ساتھ انگلینڈ لوٹے۔ جس سے وہ یورپ کے سب سے امیر خود ساختہ دولت مند بن گئے۔

یہی نہیں انھوں نے میر جعفر سے سالانہ 70 ہزار پاؤنڈ کا معاہدہ بھی کیا تھا جو کہ انھیں تاحیات ملنا تھا۔

ولیم ڈیلرمپل نے مزید لکھا کہ ‘پلاسی کی جنگ انھوں نے فوجی قوت اور بہادری کے بجائے دھوکے، فریب، رشوت، غلط معاہدے سے جیتی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے خزانے میں اس وقت 25 لاکھ پاؤنڈ (آج کے دن اربوں ڈالر) اضافہ کیا جو انھوں نے بنگال کے شکست خوردہ فرمانرواں سے حاصل کیا تھا۔’

بکسر کی جنگہ جو کہ سنہ 1764 میں ہوئی اس میں اگرچہ کلائیو کی شرکت نہیں تھی لیکن اس نے تقریبا پورے نصف شمالی اور مشرقی حصے پر انگریزوں کی اجارہ داری قائم کر دی تھی۔

نیلامی

،تصویر کا ذریعہJIM WATSON/Getty Images

جب تیسری بار تین مئی سنہ 1765 کو کلائیو انگلینڈ سے کلکتے پہنچے تو میر جعفر کا انتقال ہو چکا تھا اور ان کے داماد میر قاسم نواب تھے۔ انھوں نے مغل حکمراں شاہ عالم سے بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دیوانی حقوق حاصل کر لیے یعنی پیسے کے لین دین، محصول اور تجارت پر اجارہ داری قائم کر لی۔

کہا جاتا ہے کہ کلائیو نے یہ فرمان اتنی دیر میں حاصل کیے جتنی دیر میں ایک بار بردار جانور یا گدھا خریدا جاتا ہے۔

کلائیو نے دو سال بعد ہمیشہ کے لیے ہندوستان کو الوداع کہا لیکن ہندوستانی مورخین کے مطابق انھوں نے جو لوٹ اور رشوت ستانی و بدعنوانی کا بازار گرم کیا تھا اس نے بنگال کو اس قدر خستہ حال بنا دیا کہ سنہ 1769 میں جو قحط سالی آئی اس میں جانی نقصان کا ذمہ دار انھیں ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔

بہرحال کئی بار خودکشی کی کوشش کرنے والے 49 سالہ کلائیو نے 22 نومبر کو لندن کے برکلے سکوآئر کے اپنے گھر میں پیپر نائف سے اپنا گلا کاٹ کر جان دے دی۔

انھوں نے کوئی خودکشی کا نوٹ نہیں چھوڑا۔ بعض اخباروں نے موت کی وجہ مرگی کا دورہ بتایا لیکن اپنے وقت کے معروف مصنف ڈاکٹر سیموئل جانسن نے لکھا کہ ’انھوں اپنی دولت ایسے جرائم سے حاصل کی تھی کہ ان کے احساس جرم نے انھیں اپنا ہی گلا ریت دینے پر مجبور کر دیا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.