بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

امریکہ کی برطانیہ سے آزادی، دو جنگیں اور ’خصوصی تعلقات‘

امریکہ کی برطانیہ سے آزادی، دو جنگیں اور ’خصوصی تعلقات‘

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1781 میں برطانوی فوجی امریکی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں

ہر سال چار جولائی کو امریکہ برطانیہ سے اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے جب کانگریس نے 1776 میں اسی دن سلطنتِ برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کانگریس نے دو جولائی 1776 کو برطانیہ سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا مگر جان ایڈمز، بنجامن فرینکلن، روجر شرمن اور ولیم لیونگسٹون کی مشاورت سے تھامس جیفرسن کے بنائے گئے اعلانِ آزادی پر نظرِثانی کا کام اگلے دو دن تک مکمل نہیں ہوا تھا۔

ابتدائی طور پر آزادی کا جشن بادشاہ کی سالگرہ کی طرح منایا جاتا تھا جس میں گھنٹیاں بجائی جاتیں، آتش بازی کی جاتی، جلوس نکالے جاتے اور تقریریں کی جاتیں۔

امریکی ریاست کے جنم سے پہلے اور بعد میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں کئی موڑ آئے ہیں جن میں کچھ تناؤ سے بھرپور بھی رہے ہیں مگر بسا اوقات دوستانہ رہے ہیں۔

آئیں دیکھتے ہیں کہ دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کیسے رہے ہیں

بوسٹن ٹی پارٹی (1773)

برطانیہ کی امریکہ میں کالونیوں میں ٹیکس کے معاملے پر تنازعہ ڈھکے چھپے انداز میں ایک عرصے سے چل رہا تھا اور برطانوی پارلیمان میں ٹی ایکٹ 1773 کی منظوری کے بعد اس پر کھلے عام بحث ہونے لگی۔

یہ قانون امریکی کالونیوں میں مقامی تاجروں کے بجائے تقریباً دیوالیہ ہو چکی برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے حق میں تھا چنانچہ امریکی کالونیوں نے برطانوی چائے کا بائیکاٹ کر دیا۔

جب بوسٹن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تین جہاز لنگر انداز ہوئے تو موہاک قبائلی افراد کا روپ دھار کر 50 افراد ان جہازوں پر چڑھے اور ساری چائے سمندر میں پھینک دی۔ اس واقعے کو بوسٹن ٹی پارٹی کہا جاتا ہے۔

جنگِ آزادی اور اس کے نتائج

بوسٹن ٹی پارٹی اور دیگر مسائل پر برطانوی ردِعمل سے حالات نے کشیدگی اختیار کر لی۔ امریکہ میں برطانوی کالونیوں کے رہائشیوں نے 1775 میں پہلے انقلاب اور پھر تاجِ برطانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور 1778 میں فرانس نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے شمولیت اختیار کر لی، اور پھر یہ جنگ 1781 میں برطانوی شکست پر منتج ہوئی۔

نومبر 1782 کے اواخر میں برطانوی اور امریکی مذاکرات کاروں نے پیرس میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے اور تین ستمبر 1783 کو برطانیہ نے معاہدہ پیرس میں امریکہ کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ہینری مسلر کی پینٹنگ ’برتھ آف دی فلیگ‘ جس میں بیٹسی روس اور اُن کی ساتھی فلاڈیلفیا، پنسلوینیا میں 1777 میں پہلا امریکی پرچم سی رہی ہیں

مگر طرفین کے درمیان 1812 میں دوبارہ جنگ ہوئی اور برطانیہ کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل کو نذرِ آتش کر دیے جانے کی وجہ سے چیزیں معمول پر نہیں لوٹیں۔

جنگ کے دوران فرانسس سکاٹ کی نے اپنی مشہور نظم دی سٹار سپرینگلڈ بینر لکھی جو بعد میں امریکہ کا قومی ترانہ بنی۔

امریکی خانہ جنگی، 1861 سے 1865

برطانیہ نے امریکی خانہ جنگی کے دوران باقاعدہ طور پر غیر جانبداری کا اعلان کیا تاہم برطانوی بحری جہازوں نے باغی جنوبی ریاستوں کو اسلحے اور رسد فراہم کیں۔

اور یہ معاملہ اس وقت سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا جب ٹرینٹ نامی برطانوی بحری جہاز کو جنوبی ریاستوں کے وفود لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور امریکی یونین کے حکام نے برطانوی بحری جہاز پر موجود باغی وفود کو گرفتار کر لیا۔

یہ بحری قوانین کی خلاف ورزی تھی اور اس سے برطانیہ اور امریکی یونین کے درمیان تقریباً جنگ چھڑ گئی تھی مگر طرفین کے درمیان مذاکرات کے باعث یہ معاملہ حل ہوگیا۔

پہلی عالمی جنگ، 1914 سے 1918

امریکہ پہلی عالمی جنگ کے بڑے عرصے تک جنگ سے باہر رہا مگر جب جرمن بحری جہاز بحرِ اوقیانوس میں امریکہ کے لیے بڑا خطرہ بن گئے اور کئی امریکی بحری جہاز ڈوبے تو 1917 میں یہ بھی جنگ میں شامل ہو گیا۔

سنہ 1918 میں یورپ میں امریکی افواج کی آمد سے اتحادیوں بشمول برطانیہ کو زبردست مدد ملی مگر امریکیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

سنہ 1929 میں وال سٹریٹ کریش

پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے درمیان کے عرصے میں امریکہ نے تنہائی پسندانہ پالیسی اختیار کی اور خود کو یورپی معاملات سے دور رکھنے کو ترجیح دی۔

مگر سنہ 1929 میں وال سٹریٹ کریش کرنے سے یورپ کی نازک معیشتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ مانا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے یہ مقولہ عام ہوا کہ ‘امریکہ چھینکتا ہے تو نزلہ یورپ کو ہوتا ہے۔’

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکی جنگِ آزادی کے قائدین جارج واشنگٹن (بائیں) کے ساتھ

دوسری عالمی جنگ اور اس کے بعد

سنہ 1939 میں شروع ہو کر سنہ 1945 تک جاری رہنے والی دوسری عالمی جنگ میں امریکہ 1941 تک شامل نہیں ہوا تھا۔

جب اس نے جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو تب جب جاپان نے پرل ہاربر نامی بندرگاہ پر بمباری کی تھی۔

ایک مرتبہ پھر جنگ میں امریکی فوج کی شمولیت نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا مگر برطانوی عوام کو اس بات پر غصہ رہا کہ امریکی کیوں 1941 تک جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل نے پہلی مرتبہ سنہ 1946 میں ‘خصوصی تعلقات’ کا فقرہ استعمال کیا تھا۔ اس کی وجہ دونوں ممالک کا نازی جرمنی کے خلاف اتحاد اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین کے خلاف مل کر سامنا کرنا تھا۔

یہ فقرہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور چرچل کے درمیان دوسری عالمی جنگ کے دوران رونما ہونے والے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

فوجی اور سفارتی حکمتِ عملیاں ساتھ مل کر طے کرنے کے علاوہ دونوں رہنماؤں کی ایک قریبی دوستی بن گئی تھی اور ان دونوں کے درمیان ہزاروں کی تعداد میں فون کالز اور خطوط کا تبادلہ ہوا۔

سنہ 1965 سے 1973 کی ویتنام جنگ

برطانوی وزیرِ اعظم ہیرلڈ میک ملن اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے درمیان اختلافات کے باوجود نوجوان صدر کینیڈی کو کیوبن میزائل بحران اور سرد جنگ کے دیگر مسائل پر تجربہ کار برطانوی سیاست دان کی تجاویز سے کافی فائدہ ہوا۔

مگر برطانوی وزیرِ اعظم ہیرلڈ ولسن اور امریکی صدر لنڈن جانسن کے ادوار میں دونوں ممالک کے درمیان معاملات ہمیشہ خوشگوار نہیں رہے۔ ولسن نے برطانوی فوجیوں کے ویتنام بھیجے جانے کی مخالفت کی اور ذاتی تعلقات کو 15 سال کے لیے محدود کر دیا۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

چرچل اور روزویلٹ 1943 میں کاسابلینکا کانفرنس کے موقع پر

تھیچر اور ریگن

ذاتی تعلقات برطانوی وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر اور امریکی صدر رونلڈ ریگن کے دور میں نئی بلندی پر پہنچ گئے۔ ان دونوں کے ایک دوسرے میں اپنا نظریاتی شریک نظر آنے لگا۔

ان دونوں کے درمیان قریبی تعلقات کی وجہ سے یہ دونوں مفادات کے ٹکراؤ سے بچ جاتے تھے۔ مگر جب امریکہ نے دولتِ مشترکہ گریناڈا پر خبردار کیے بغیر حملہ کیا تو برطانیہ اس میں شامل نہیں ہوا۔

مارگریٹ تھیچر نے ہی میخائل گورباشیف کے بارے میں کہا تھا کہ وہ وہ شخص ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر سکتی ہیں۔ ان تینوں نے مل کر عالمی تعلقات کے ایک نئے دور کی بنیاد ڈالی۔

سنہ 1991 میں خلیجی جنگ

یہ اس اتحاد کے لیے کافی کامیاب دور تھا مگر جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو مارگریٹ تھیچر نے جارج بش سینیئر کو کہا کہ اب میرے سامنے کمزوری مت دکھائیے گا۔

مگر جب جان میجر نے برطانوی وزارتِ عظمیٰ اور بل کلنٹن نے امریکی صدارت سنبھالی تو تعلقات دوبارہ سرد مہری کے شکار ہو گئے۔ اس حوالے سے شبہات موجود تھے کہ جان میجر کی کنزرویٹو جماعت نے ہی کلنٹن کے سیاسی مخالفین تک ‘آکسفرڈ فائلز’ پہنچائی تھیں۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹونی بلیئر اور بل کلنٹن

تھیچر اور ریگن کی طرح ٹونی بلیئر اور بل کلنٹن کی بھی سیاسی اور ذاتی دوستی فوراۙ پیدا ہو گئی۔

کلنٹن کی انتخابی مہم کی ٹیم نے سنہ 1997 میں برطانوی عام انتخابات میں ٹونی بلیئر کی مدد کی اور دونوں رہنماؤں نے بعد میں شمالی آئرلینڈ، خطہ بلقان اور کوسووو پر مل کر کام کیا۔ بلیئر نے کلنٹن کے ساتھ اپنی دوستی مونیکا لیونسکی سکینڈل کے دوران بھی جاری رکھی۔

کلنٹن اور بلیئر کے درمیان مضبوط تعلقات کے بعد کئی لوگوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ جارج بش کے منتخب ہونے سے امریکی اور برطانوی تعلقات میں سردمہری پیدا ہوگی مگر بلیئر نے جارج بش کے خلاف ایک بھی منفی لفظ کہنے سے خود کو روکے رکھا اور کہا کہ لوگوں کو اُن کی ذہانت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔

ستمبر حملے اور اس کے بعد

سنہ 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد برطانیہ نے فوری طور پر امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور ٹونی بلیئر عراق جنگ میں بھی پوری طاقت کے ساتھ بش کی حمایت کرتے رہے۔

بلیئر نے کہا: ‘ہمیں امریکہ کا قریب ترین اتحادی رہنا چاہیے اس لیے نہیں کیونکہ وہ مضبوط ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہماری اقدار ایک جیسی ہیں۔’

مارچ 2010 میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن اور امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں برطانوی دارالعوام کی اُمورِ خارجہ کمیٹی نے کہا: ‘بھلے ہی برطانیہ اور امریکہ کے قریبی تعلقات ہیں مگر برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تمام جہتوں سے عکاسی کرنے کے لیے اس فقرے (خصوصی تعلقات) کا استعمال گمراہ کُن ہو سکتا ہے اور ہم اس کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔’

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کمیٹی نے کہا کہ کچھ سیاست دانوں اور میڈیا پروفیشنلز کا اس فقرے کو بار بار استعمال کرنا اس کی قدر گھٹا دیتا ہے اور ان تعلقات سے فائدے کی برطانوی اُمیدوں کو غیر حقیقی حد تک بڑھا دیتا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ یہ تعلق برطانیہ کی جانب سے سابق صدر جارج بش کو عراق جنگ میں فراہم کی گئی حمایت سے تعلق رکھتا ہے۔

بورس جانسن کا ٹرمپ اور بائیڈن سے تعلق

بورس جانسن نے جولائی 2019 میں جب وزارتِ عظمیٰ سنبھالی تو برطانیہ میں امریکہ کے سابق سفیر ووڈی جانسن نے کہا کہ ‘برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تعلقات زبردست ہوں گے۔’

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بورس جانسن کے اندازِ قیادت میں بہت کچھ ایک جیسا ہے اور دونوں ہی میں ‘کام انجام دینے’ کی خواہش موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ نے جانسن کے اقتدار میں آنے کی حمایت کی تھی اور اور کہا تھا کہ وہ ‘زبردست کام کریں گے’۔ اُنھوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا تھا کہ بورس جانسن برطانیہ کے ٹرمپ ہوں گے۔

ٹرمپ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی تھے اور اُنھوں نے سابق وزیرِ اعظم ٹریزا مے کے یورپی یونین سے مذاکرات پر تنقید کی تھی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں اور سابق صدر کے نسل اور ترکِ وطن پر نظریات کے حوالے سے تنازعات بھی رہے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے امریکہ میں سفیر کم ڈاروچ کو برطانوی سفارتی پیغامات لیک ہونے پر استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ووڈی جانسن نے بی بی سی کے ریڈیو فور کو بتایا تھا کہ اُن کا کام اُن چیزوں پر توجہ دینا ہے جن پر ہم متفق ہیں۔

‘ہم اس دوران مشکلات سے گزریں گے مگر کوئی شک نہیں کہ ہم دو عظیم ممالک ہیں۔ اگر ہم اپنے درمیان تعلقات کو امید پسندی کے ساتھ دیکھیں تو ہم اس ملک کے لوگوں کو ترقی دلوا سکتے ہیں اور ہم اِنھیں آزادی دلوائیں گے، اور وہ سب چیزیں جس کے لیے انھوں نے ریفرینڈم میں ووٹ دیا ہے۔’

اُنھوں نے کہا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ یہی چیز صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم برطانیہ چاہتے ہیں۔’

بورس جانسن نے حال ہی میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی ہے جس میں اُنھوں نے متعدد معاملات بشمول یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے بعد شمالی آئرلینڈ کی صورتحال پر بات کی اور جانسن نے برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کو ‘ناقابلِ تباہی’ قرار دیا۔

بورس جانسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ ایک گہرا اور معنی خیز تعلقات ہے جو تباہی سے بالکل محفوظ ہے۔ یہ ایسا تعلق ہے جو ایک طویل عرصے سے قائم ہے اور اس نے یورپ اور دنیا کے امن اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’

بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ شمالی آئرلینڈ میں امن کو بریگزٹ کی وجہ سے گزند نہیں پہنچنے دیں گے۔ اُنھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی کہا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی تجارتی معاہدہ شمالی آئرلینڈ کے امن معاہدے کی تکریم سے ‘مشروط’ ہونا چاہیے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ اپنے آئرش اجداد پر فخر کرتے ہیں اور اُنھوں نے اس حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ریگن اور کینیڈی سمیت کئی امریکی صدور کے اجداد آئرش رہے ہیں۔

امریکہ کی تاریخ میں کئی صدور کا آبائی تعلق برطانیہ سے بھی رہا ہے جن میں جارج واشنگٹن، اینڈریو جیکسن، ووڈرو ولسن اور جمی کارٹر شامل ہیں، اس کے علاوہ کچھ صدور مثلاً فرینکلن پیئرس اور چیسٹر آرتھر کا تعلق ویلز سے رہا ہے۔

اس کے علاوہ صدر یولیسز گرانٹ اور جیمز بیوکینن کے اجداد کا تعلق سکاٹ لینڈ سے رہا ہے۔

کُل 46 امریکی صدور میں سے 40 کا آبائی تعلق برطانیہ سے ہے۔ اس کے علاوہ موجود برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن امریکہ کے شہر نیویارک میں پیدا ہوئے تھے چنانچہ اُن کے پاس امریکی شہریت تھی جس وہ دستبردار ہو گئے تھے۔

امریکہ، برطانیہ

‘خصوصی تعلقات’

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا امریکہ کے ساتھ تعلق 20 ویں صدی کے سب سے مضبوط اتحادوں میں سے ہے مگر برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت نے اس تعلق کے مستقبل پر کئی سوال کھڑے کر دیے۔

روئٹرز کے مطابق ٹرمپ کی صدارت کے دوران ریگن اور تھیچر کے بنائے گئے اس اتحاد میں پڑتی دراڑیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھیں۔

مگر دونوں ممالک کے درمیان یہ ‘خصوصی تعلق’ آخر ہے کیا؟

معیشت

امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جو 213 کھرب ڈالر پر محیط ہے۔ یہ دنیا کی مجموعی قومی پیداوار کے 24 فیصد کے برابر ہے۔ برطانیہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جو 24 کھرب ڈالر یا عالمی مجموعی قومی پیداوار کے تین فیصد کے برابر ہے۔

ویسے تو برطانیہ کی بیرونی تجارت کا نصف یورپی یونین کے ساتھ ہوتا ہے تاہم امریکہ برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے بعد جرمنی، نیدرلینڈز، فرانس اور چین کا نمبر آتا ہے۔

برطانیہ کی بات کی جائے تو یہ امریکہ کا ساتواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس سے پہلے چین، کینیڈا، میکسیکو، جاپان، جرمنی اور جنوبی کوریا کا نمبر ہے۔

اور برطانیہ اور امریکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کو سرپلس قرار دیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ دونوں ایک معیار کی پابندی نہیں کرتے۔

کئی دہائیوں تک واشنگٹن اور لندن کی خواہش رہی ہے کہ عالمی منڈیوں کو آزادانہ تجارت کے لیے کھول دیا جائے۔

فوجی تعاون

امریکی انتظامیہ نے سنہ 2019 میں دفاع پر 686 ارب ڈالر خرچ کرنے کی منظوری دی ہے۔ دفاعی اخراجات پر امریکہ اپنے بعد موجود سات ممالک کے مجموعی خرچے سے زیادہ پیسہ فوج پر خرچ کرتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کے پاس روس کے بعد سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں۔

امریکی بحریہ کے پاس 14 اوہائیو کلاس جوہری آبدوزوں کا بیڑہ ہے جس میں سے ہر ایک 20 ٹرائیڈنٹ 2 ڈی 5 ملٹی رول میزائل لے جا سکتی ہے۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یورپی یونین میں سب سے بڑا دفاعی بجٹ برطانیہ کا ہے جو اپنی افواج پر سالانہ 40 ارب پاؤنڈز خرچ کرتا ہے جس کے بعد دو جوہری طاقتیں فرانس اور روس ہیں۔

برطانیہ کے پاس وینگارڈ کلاس آبدوزوں کا بحری بیڑہ ہے جو 16 ٹرائیڈنٹ 2 ڈی 5 میزائل لے جا سکتی ہیں۔

دونوں ممالک کے مل کر یورپ، کوریا، کویت، عراق، سابقہ یوگوسلاویہ، افغانستان، لیبیا اور شام میں جنگیں لڑی ہیں۔ برطانیہ بھی نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا رکن ہے اور امریکہ اس اتحاد کا سربراہ ہے۔

امریکی فورسز برطانیہ میں کئی اڈوں پر موجود ہیں جن میں لیکن ہیتھ، کروٹون، اور مینوِتھ ہل ایئر بیسز شامل ہیں۔

انٹیلیجنس

برطانیہ اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بہت قریبی ہے اور یہ اُن مرکزی شعبوں میں شامل ہے جن کا اس اتحاد پر اثر نظر آتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران دونوں ممالک کا انٹیلی جنس کے تبادلے کا معاہدہ ہوا جس می بعد میں کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہو گئے۔ اس اتحاد کو بعد میں ‘فائیو آئیز’ یعنی پانچ آنکھیں بھی کہا گیا۔

اس اتحاد میں امریکہ کی طاقتور، کمپیوٹرائزڈ جاسوسی ٹیکنالوجیوں اور برطانیہ کی روایتی انسانی انٹیلیجنس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ حکمتِ عملی سابق سوویت یونین، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں بخوبی کام کر رہی ہے۔

مختلف انٹیلی جنس اداروں کے درمیان قریبی تعاون ہے۔ چونکہ دونوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کے کام آتی ہیں، اس لیے برطانیہ کے فون ٹیپ کرنے والے ادارے کی اکٹھی کردہ معلومات امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے بالخصوص کام آتی ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کا بجٹ (فوجی انٹیلی جنس کے علاوہ) 60 ارب ڈالر ہے جبکہ برطانوی انٹیلی جنس بجٹ 2.3 ارب ڈالر ہے۔

پیسے کی دنیا

لندن اور نیو یارک دنیا کے دو مالیاتی مراکز ہیں۔ لندن زرِ مبادلہ کی لین دین اور بین الاقوامی قرضوں کے حساب سے سب سے بڑا مرکز ہے تو نیو یارک بانڈز اور سٹاکس کی تجارت میں سرِفہرست ہے۔

امریکہ، برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور گلوبل فنانشل سینٹرز انڈیکس کے مطابق نیو یارک نے دنیا کی سب سے بڑی پرکشش مارکیٹ بن کر لندن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ انڈیکس 100 مالیاتی مراکز کو انفراسٹرکچر اور ماہر سٹاف تک رسائی میں آسانی جیسے عوامل پر پرکھتی ہے۔

زرِ مبادلہ کی عالمی مارکیٹ میں روزانہ 51 کھرب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہوتی ہے۔

لندن میں ہونے والی کرنسیوں کی تجارت کا حجم امریکہ اور یورپی یونین میں مجموعی طور پر ہونے والی تجارت سے زیادہ ہوتا ہے۔

ریفینیٹیو کے ڈیٹا کے مطابق امریکہ کی 500 بڑی کمپنیوں پر مبنی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کے شیئرز کی مالیت 257 کھرب ڈالر ہے۔

اس کے مقابلے میں لندن سٹاک ایکسچینج پر موجود 600 کمپنیوں کے شیئرز پر مبنی ایف ٹی ایس ای آل شیئرز انڈیکس کا کُل حجم 25 کھرب پاؤنڈ ہے۔

امریکی بانڈ مارکیٹ جس میں حکومتی اور کارپوریٹ قرضہ شامل ہے اس کا حجم بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کے مطابق 407 کھرب ڈالر ہے جبکہ برطانیہ کی بانڈ مارکیٹ 58 کھرب ڈالر کے برابر ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.