ہفتہ25؍رمضان المبارک 1442ھ 8؍ مئی 2021ء

جوس کا ایک گلاس جو تمام بیماریوں کو ختم کرسکتا ہے

چقندر، گاجر اور سیب کا جوس کسی جادوئی دوائی سے کم نہیں، صحت پر حیرت انگیز اثرات کی وجہ سے اس مشروب نے دنیا بھر میں ایک الگ ہی پہچان بنا لی ہے۔چقندر کے جوس کو پہلی مرتبہ پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر مختلف بیماریوں کے علاج میں روایتی طور پر چینی طبی ماہرین نے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔

یہاں آسٹریا کے ڈاکٹر روڈولف بریس کا ذکر کرنا ضروری ہے جنہوں نے کینسر کا بہترین قدرتی علاج تلاش کرنے کےلیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مہلک ٹیومر سیل مضبوط گوشت کی مدد سے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے بیالیس دن کی ایک تھراپی تیار کی جس میں مریض صرف چائے، خصوصی سبزیاں اور پھلوں کا جوس ہی استعمال کرسکتا تھا اور اس کا بنیادی جزو چقندر تھا جس سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے تھے، اس طریقے کی مدد سے کینسر اور دیگر عارضی بیماریوں سے پنتالیس ہزار سے زیادہ افراد ٹھیک ہوگئے تھے۔

پھل اور سبزیاں ایک غیر معمولی دوائی کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں:

سیب

جس میں وٹامن اے، گروپ بی، سی ، ای، کے اور معدنیات جس میں میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، کیلشیم، سوڈیم اور آئرن موجود ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کے اعلیٰ اجزاء خصوصاً فروکٹوز اور گلوکوز کی بدولت سیب جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے اور تھکاوٹ کو روکتا ہے۔

وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے سیب کے اندر ایک مضبوط امیونوسٹیمولیٹری اثر ہے۔ یہ وائرس، بیکٹریا اور آزاد ریڈیکلس سے لڑنے میں بہت موثر ہے اور اس کے علاوہ وزن کم کرنے اور ہاضمے کے عمل کو تیز کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔

گاجر

گاجر وٹامن اے، بی ، سی، ای اور کے کیلئے مشہور ہے۔ اس میں معدنیات کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور سیلینیم موجود ہوتے ہیں۔ قدرتی طور پر گاجر کو آنکھوں کی نظر کےلیے بہترین سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ فالج کےخطرے کو کم کرتا ہے اور مضبوط اینٹی کینسر اثر بھی رکھتا ہے۔

چقندر

چقندر میں وٹامن اے، بی، سی اور آئرن، کاپر، میگینشیم اور پوٹاشیم بھرپور مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ یہ دل، خون کی نسوں، جگر اور پورے نظام ہاضمہ پر فائدہ مند اثر ڈالتا ہے اور کینسر سے بچانے کےلیے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

چقندر، گاجر اور سیب کے جوس کے استعمال سے کینسر کے مریضوں کو اُمید ملتی ہے:

یہ جوس کینسر میں مبتلا لوگوں کےلیے بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں نہ صرف فائدہ مند ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ تقریباً تمام قسم کے مہلک ٹیومر خلیوں کی نشوونما کو روکتا ہے۔

چقندر میں امائنوایسڈ بیٹین ہونے کی وجہ سے اس میں کینسر سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں، چقندر کو لیوکیمیا کا روایتی علاج سمجھا جاتا ہے۔

گاجر ، سیب اور چقندر کا مکسچر دل کےلیے بہت اچھا سمجھا جاتا ہے، یہ دل اور خون کی رگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا کسی اکسیر سے کم نہیں ہے۔

گاجر کا جوس فائٹونیوٹرینٹ (phytonutrients) ہے جو دل کی صحت کو فروغ دیتا ہے جیسے الفا، بیٹا کیروٹین اور لیوٹین۔

سیب کی بدولت خراب کولیسٹرول(ایل ڈی ایل) کی بڑھتی ہوئی سطح پر مثبت اثر ہونے لگتے ہیں، بلڈ پریشر کو ریگیولیٹ کرنے اور دل کی مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔

چقندر خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کےلیے شریانوں کو لچکدار بنانے میں مدد کرتا ہے۔

چقندر، گاجر اور سیب کا قدرتی جوس جگر اور خون کی صفائی میں موثر ثابت ہوتا ہے، جسم کو تندرست کرتا ہے اور انفیکشن سے بچاتا ہے۔

سیب میں ڈیٹوکسیفائنگ کی خاصیت ہوتی ہے، اور یہ پیکٹین غذائی ریشہ دار مادے سے بھرپور ہے جو زہریلے مادوں کو اپنے آپ سے چپکالیتے ہیں اور آنتوں میں ہضم کھانے کی باقیات خراب مادوں کو نکالنے میں مدد کرتا ہے۔

چقندر میں آئرن کی موجودگی پورے نظام کو صاف کرنے اور خون کی تیاری کےلیے طاقتور ذریعہ ہے۔

گردوں، جگر اور لبلبہ کی صحت کو برقرار رکھنے کےلیے تینوں اجزاء کا انفیوژن بہت ہی کارگرثابت ہوتا ہے۔

یہ مشروب مضبوط اینٹی بیکٹیریل اور انیٹی وائرل خصوصیات کی وجہ سے انفیکشن اور انفلیمیشن سے بچاتا ہے اور جلد کو صحت مند اور طاقتور بنانے میں مدد کرتا ہے۔

مختلف مطالعوں سے پتا چلتا ہے کہ چقندر ، گاجر اور سیب کے جوس میں ہر وہ چیز ہوتی ہے جو آپ کے جلد کےلیے اہمیت کی حامل ہے۔

یہ پمپلس اور مہاسیوں سے جلد کو پاک رکھتا ہے، بہت ہی عمدہ اینٹی انفلیمیٹری ایجنٹ بھی ہے جو وائرس اور بیکٹریا سے وابستہ جلد کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ الرجی کا بھی علاج کرتا ہے۔

قدرتی اجزاء کی بدولت یہ مشروب جھریاں، خشکی اور خراب شدہ جلد دوبارہ سے بحال کردیتی ہے۔

اس مشروب کی مدد سے خشک ، سرخ اور تھکی ہوئی آنکھوں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، یہ قدرتی جوس آپ کو کمپیوٹر پر طویل عرصے تک کام کرنے کے بعد اپنی آنکھوں کو آرام کرنے اور ان کی قدرتی صحت کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اس جوس میں وٹامن اے کی وافر مقدار وژن کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.