اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

بیلجیئم کے ایک کسان نے نادانستہ طور پر ’فرانس کو چھوٹا کر دیا‘

بیلجیئم کے ایک کسان نے نادانستہ طور پر ’فرانس کو چھوٹا کر دیا‘

سر حد کا تعین کرنے والے پتھر پر 1819 کندہ ہے

،تصویر کا ذریعہDavid Lavaux

،تصویر کا کیپشن

سر حد کے تعین کے لیے جگہ جگہ پتھر نصب کیے گئے تھے جو اب بھی موجود ہیں

بیلجیئم کے ایک کاشتکار نے فرانس کے ساتھ سرحد پر دونوں ملکوں کے درمیان حدود کا تعین کرنے والے دو سو برس پرانے پتھر کو نادانستہ طور پر فرانسیسی حدود میں دھکیل کر ہلچل پیدا کر دی ہے۔

تاریخ کا دلدادہ ایک شخص ایک جنگل سے گزر رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ فرانس اور بیلجیئم کے درمیان سرحد کی نشاندہی کرنے والا پتھر اپنی جگہ سے تقریباً ساڑھے سات فٹ ہٹا ہوا ہے۔

کاشتکار نے بظاہر نشان زدہ پتھر کو اپنے ٹریکٹر کے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے فرانس کی حدود کے اندر سرکا دیا تھا۔

مگر بجائے کسی بین الاقوامی شور شرابا کے اس واقعے نے سرحد کے دونوں جانب مسکراہٹیں بکھیر دیں۔

بیلجیئم کے سرحدی گاؤں کے میئر نے فرانسیسی ٹی وی چینل ٹی ایف ون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نے بیلجیئم کو بڑا اور فرانس کو چھوٹا کر دیا ہے، یہ کوئی اچھی بات تو نہیں۔‘

ان کے بقول دو پڑوسی ممالک تو ایک طرف، ایسی حرکت تو زمینداروں کے درمیان بھی تنازع کا موجب ہوتی ہے۔

فرانس اور بیلجیئم کے درمیان 390 میل طویل سرحد موجود ہے۔ یہ نپولین کی واٹرلو کے مقام پر شکست کے بعد 1820 میں متعین کی گئی تھی۔ مذکورہ پتھر 1819 میں لگایا گیا تھا۔

میئر نے ہنستے ہوئے کہا ’میں خوش تھا کہ میرا گاؤں بڑا ہوگیا ہے، مگر فرانسیسی گاؤں کا میئر خوش نہیں۔‘

بیلجیم کے ایک کھیت میں ٹریکٹر کی فضائی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

فائل فوٹو: اب کاشتکار سے کہا جائے گا کہ وہ اس پتھر کو اپنی جگہ پر واپس نصب کرے

فرانسیسی گاؤں کے میئر کا کہنا تھا، ’ہم ایک نئی سرحدی جنگ سے تو بچ ہی جائیں گے!‘

بیلجیئم کے مقامی حکام کاشتکار سے بات کر کے اسے پتھر کو اپنی اصل جگہ پر پھر سے لگانے کو کہیں گے۔ اگر کاشتکار نے ایسا نہ کیا تو پھر مسئلے کے حل کے لیے فرانسیسی اور بیلجیئم کے بارڈر کمیشن کا اجلاس بلایا جائے گا۔ یہ کمیشن 1930 سے غیر متحرک ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کاشتکار نے حکم نہیں مانا تو جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.