بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایشیا کپ ’رائزنگ سٹارز‘ میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں پر بحث: ’یہ ابھرتے ہوئے کھلاڑی نہیں‘

کھیل
ایشیا کپ ’رائزنگ سٹارز‘ میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں پر بحث: ’یہ ابھرتے ہوئے کھلاڑی نہیں‘

ایشین کرکٹ کونسل کے تحت اے سی سی مینز ایشیا کپ رائزنگ سٹارز ٹورنامنٹ 19 نومبر سے قطر میں کھیلا جائے گا جس کے لیے پاکستان اور انڈیا نے اپنے سکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔ مگر بہت سے شائقین کی رائے میں بہت سے کھلاڑی پہلے سے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

19 سے 29 تک کھیلے جانے والے ون ڈے ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جنھیں دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ان میں سے افغانستان، بنگلہ دیش، ہانگ کانگ اور سری لنکا کی ٹیمیں گروپ اے میں ہیں۔ دوسری جانب گروپ بی میں روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کے علاوہ نیپال اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں شامل ہیں۔ ان میں سے ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک بشمول پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، افغانستان اور سری لنکا نے ٹورنامنٹ کے لیے اپنی اے ٹیمز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

سوموار کے روز انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) جبکہ منگل کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے اپنی اپنی ٹیموں کا اعلان کیا۔

بی سی سی آئی کے مطابق ایشیا کپ رائزنگ سٹارز کے لیے انڈیا اے سکواڈ کی قیادت بیٹنگ آل راؤنڈر تلک ورما کریں گے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک شرما، ویبھو سوریہ ونشی، پربھسمرن سنگھ (وکٹ کیپر)، راجت پاٹیدار (نائب کپتان)، رنکو سنگھ، کمار کشاگرا (وکٹ کیپر)، سوریانش شیڈگے، شہباز احمد، وپراج نگم، ہرش دوبے، تنوش کوٹیان، ہرشیت رانا، پرنس یادو اور ارشد خان کو انڈین سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دفاعی چیمپیئن پاکستان کی قیادت عبدالصمد کریں گے۔

کپتان عبدالصمد کے علاوہ حسن نواز، معاذ صداقت، حیدر علی، شاہزیب خان، فرحان یوسف اور شامیل حسین پاکستان کے بیٹنگ لائن اپ کا حصہ ہوں گے جبکہ روحیل نذیر کو بطور وکٹ کیپر شامل ہیں۔

بائیں ہاتھ سے سپن بولنگ کرنے والے آل راؤنڈر دانش عزیز، لیگ سپنر سعد مسعود اور سفیان مقیم سکواڈ میں شامل ہیں۔

سکواڈ میں شامل فاسٹ بالرز میں محمد حسنین، عاکف جاوید اور محمد عمران رندھاوا بھی ہیں۔

ٹورنامنٹ کے شیڈول کے مطابق پاکستان اپنی مہم کا آغاز 20 نومبر کو متحدہ عرب امارات کے خلاف کرے گا، جبکہ 22 نومبر کو انڈیا اے اور 24 نومبر کو نیپال کا سامنا کریں گے۔

پی سی بی اور بی سی سی آئی کی جانب سے اپنی اپنی ٹیموں کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور کرکٹ شائقین مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔

شیری نامی ایکس صارف لکھتے ہیں کہ 2019 میں محمد حسنین، روحیل نذیر، عاکف جاوید اور حیدر علی پاکستان کے ایمرجنگ ایشیا کپ سکواڈ کا حصہ تھے۔

اب 2026 میں بھی یہ چاروں پاکستان رائزنگ سٹارز ایشیا کپ کا حصہ ہیں۔ ’یہ ہیں پی سی بی کے ہیرے۔‘

فاخر نامی صارف ایکس پر لکھتے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں سمیر منہاس، حنین شاہ، عباس آفریدی اور شاہنواز دھانی کو رائزنگ سٹارز ایشیا کپ کے سکواڈ میں شامل نہ کیے جانے پر سوالات اٹھتے ہیں۔

’ڈومیسٹک اور فرنچائز کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی کے باوجود ان باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ پاکستان کی سینیئر ٹیم کا حصہ رہنے والے عبدالصمد، حسن نواز اور احمد دانیال کو سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ رائزنگ سٹارز ٹورنامنٹ کا مقصد ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کرنا ہے، نہ کہ پہلے سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو بھیجنا۔

’پاکستان میں نوجوان کرکٹرز کے لیے میرٹ کو ترجیح کب دی جائے گی؟‘

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

پی سی بی کی جانب سے ایکس پر ٹیم کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایک صارف لکھتے ہیں کہ 'اگر 30 سالہ دانش عزیز اب بھی 'ابھرتے ہوئے کھلاڑی' میں شمار ہوتے ہیں تو پھر کامران غلام پر بھی سرمایہ کاری کر ہی لینی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے ٹورنامنٹس میں ہی رضااللہ جیسے کھلاڑیوں کو آزمایا جانا چاہیے، نہ کہ انھیں سیدھا سینیئر ٹیم میں تمام فارمیٹس میں شامل کر لیا جائے۔

عبداللہ ہاشمی نامی صارف پاکستان سکواڈ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ علی رضا اور حنین شاہ کہاں ہیں؟

ہاشمی سمیت متعدد صارفین حیدر علی کو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں شامل کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے نظر آئے۔

حسنین نامی صارف لکھتے ہیں کہ حیدر علی 2020 کا ایمرجنگ ٹورنامنٹس کھیلے تھے اور وہ ’تواتر سے ناکام ہو رہے ہیں۔‘

ایک اور صارف سوال کرتے ہیں کہ حیدر علی کو مزید کتنے مواقع چاہییں۔

یاد رہے کہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے مڈل آرڈر بلے باز 26 سالہ حیدر علی نے ٹی 20 آئی میں پاکستان قومی ٹیم کی پہلی مرتبہ نمائندگی 2020 میں انگلینڈ کے خلاف کی تھی۔ وہ اب تک 35 ٹی 20 آئی اور دو ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اسی طرح سکواڈ میں شامل فاسٹ بالر محمد حسنین نے 2019 میں پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ وہ اب تک 15 ون ڈے انٹرنیشنلز اور 28 ٹی 20 آئی کھیل چکے ہیں۔

کم و بیش اسی طرح کے تبصرے انڈین سکواڈ کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

فاخر نامی صارف لکھتے ہیں کہ رائزنگ سٹارز ایشیا کپ کے لیے انڈیا کا سکواڈ 'رائزنگ' سے زیادہ تجربہ کار دکھائی دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سکواڈ میں تلک ورما اور ابھیشیک شرما انڈیا کی سینیئر ٹیم کے لیے 50 سے زیادہ ٹی20 انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں۔

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ 'تلک اور ابھیشیک رائزنگ سٹارز کے سکواڈ میں کیا کر رہے ہیں؟'

نبراز رمضان نامی صارف لکھتے ہیں کہ انڈیا کا سکواڈ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ٹیم نہیں لگتی، بلکہ 'سینیئر ٹیم کا بھیس بدلا ہوا روپ معلوم ہوتی ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گروپ میں پاکستان اے شامل ہوا تو کھلاڑیوں کی بہتری کا مقصد پس منظر میں چلا گیا۔

'رائزنگ سٹارز ٹورنامنٹ کے لیے مکمل طاقت کے ساتھ سکواڈ اتار دیا گیا ہے... خدشہ واضح دکھائی دیتا ہے۔'

کئی صارفین 32 سالہ رجت پٹی دار کو ایمرجنگ سکواڈ میں شامل کیے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے نظر آئے۔

ایک صارف لکھتے ہیں 'انکل رجت پٹی دار رائزنگ سٹار ہیں؟'

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو