صرف بیٹھنےکے 600 روپے! کراچی کی نئی فوڈ واک کو شہریوں سے بیٹھنےکی فیس لینے پر تنقیدکا سامنا

فیس بک اسکرین شاٹ/ سعیدغنی، پی پی پی
کراچی کی سندھی مسلم فوڈ واک پر اگر آپ صرف گھومنے نہیں بلکہ کچھ دیر بیٹھنے بھی آجائیں، تو ممکن ہے آپ کو 600 روپے ادا کرنے پڑ جائیں۔
اگر آپ نےکھانے پینےکا کوئی آرڈر نہیں دیا اور صرف کرسی پر بیٹھنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے بھی آپ کو 600 روپے دینے ہوں گے۔
جیو ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ایک ریسٹورنٹ کے عملے نے دعویٰ کیا کہ یہ 600 روپے ٹیبل اور کرسیوں کے وہ چارجز ہیں جو کے ایم سی اور ٹی ایم سی کی جانب سے ریسٹورنٹس سے ماہانہ وصول کیے جاتے ہیں۔
فوڈ واک پر یہ ٹیبل اور کرسیاں اسی پاتھ وے پر لگائی گئی ہیں، جسے اس منصوبےکے تحت بہتر بنا کر آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شہریوں کے بیٹھنے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ یہاں شہری پیدل چلنے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔
البتہ اگر آپ بغیر کچھ آرڈر کیے ان کرسیوں پر بیٹھنا چاہیں، تو آپ کو 600 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
جیو ڈیجیٹل کی رپورٹر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان سیٹنگ چارجز کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے سوال اٹھایا۔
ٹاؤن انتظامیہ نے چارجز وصولی کی تردید کردی
اس پر ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن نے ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہےکہ فوڈ واک کی جگہ اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، تاہم نہ ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن اور نہ ہی کے ایم سی ریسٹورنٹس سے اس جگہ کے استعمال کے کوئی چارجز وصول کر رہی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ اگر کسی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کے حوالے سے شکایت ہو تو وہ تحریری درخواست یا تصویر کے ذریعے آگاہ کرسکتے ہیں، جس پر متعلقہ ریسٹورنٹ سے وضاحت طلب کی جائےگی۔
رپورٹر کی پوسٹ پر ایک سوشل میڈیا صارف نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعےکی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ان سے کرسیوں پر بیٹھنےکے 600 روپے مانگےگئے، جس پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔
صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک مڈل کلاس فیملی جو کھانے پینے پر اضافی خرچہ برداشت نہیں کرسکتی، اس فوڈ واک پر نہیں آسکتی؟
دوسری جانب ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو ڈیجیٹل کو بتایا کہ معاملہ صرف ٹیبل اور کرسیوں تک محدود نہیں، ان کے مطابق نیویارک اور ترکیےکی شاہراہوں کی طرز پر فوڈ واک میں بل بورڈز لگانے کے لیے بھی تاجروں پر دباؤ ڈالا گیا ہےکہ وہ ٹاؤن انتظامیہ کے ساتھ ہی معاہدے کریں۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ فوڈ واک کے افتتاح کے بعد سے ریسٹورنٹس کی سیل میں کمی آئی ہے، جس کی ایک وجہ پارکنگ کا نظام ہے۔
ٹریفک کے باعث علاقہ مکینوں کو پریشانی کا سامنا
فوڈ واک کی اس نئی تبدیلی سے صرف تاجر ہی نہیں، علاقہ مکین بھی پریشان ہیں۔
جیو ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی ایچ ایس کے رہائشی غلام حسن نے بتایا کہ ٹریفک کی آمدورفت کے لیے ایس ایم سی ایچ ایس کی فوڈ اسٹریٹ بند کرنےکا نقصان اب علاقہ مکینوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
غلام حسن کا کہنا تھا کہ' ہم 40 سال سے یہاں رہ رہے ہیں، یہ کوئی نئی فوڈ اسٹریٹ نہیں ہے۔ اس کی تعمیر نو کے دوران بھی ہم نے مشکلات برداشت کیں۔ اس وقت سڑک کھدی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں اور کھانے پینے کے لیے آنے والے شہریوں کے لیے اس روٹ سے گزرنا یا ریسٹورنٹس تک پہنچنا مشکل تھا۔لیکن ہمیں امید تھی کہ کچھ بہتر ہونے جا رہا ہے۔ مگر جس دن سے اس کا افتتاح ہوا ہے، اس دن سے یہ شاہراہ مچھلی بازار کا سماں پیش کر رہی ہے۔ ٹریفک کے دباؤ کی وجہ سےگاڑیوں کا رش اب پی سی ایچ ایس کی گلیوں اور اطراف میں بھی دیکھا جا سکتا ہے'۔
علاقہ مکین نے سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ واک کے افتتاح کے موقع پر موبائل فون چوری ہونےکی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ کہیں اس سرگرمی کی وجہ سے علاقے میں چوری کی وارداتیں نہ بڑھ جائیں۔
شہریوں کے لیے تفریح کی غرض سے بنائی گئی نئی فوڈ واک، سیٹنگ چارجز، تاجروں کے تحفظات، ٹریفک اور سکیورٹی کے مسائل کے باعث مختلف سوالات کی زد میں ہے۔
بشکریہ جیو نیوز