ایل پی جی کا سرکاری نرخ 295 روپے، مگر مارکیٹ میں 700 روپے فی کلو کی کیوں فروخت ہو رہی ہے؟

پاکستان میں گھریلو استعمال کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان فرق اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بہت سے صارفین سرکاری نرخ سے تقریباً دُگنی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
اسلام آباد کے رہائشی محمد صغیر بھی ایسے ہی صارفین میں شامل ہیں۔
حکومت کے ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق ایل پی جی کی قیمت لگ بھگ 295 روپے فی کلو ہے، تاہم محمد صغیر نے حال ہی میں 12 کلوگرام کا گھریلو سلینڈر 6500 روپے میں خریدا، جو فی کلو 550 روپے سے زیادہ بنتا ہے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
محمد صغیر کو معلوم نہیں کہ سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کہاں دستیاب ہے یا واقعی دستیاب بھی ہے یا نہیں۔ البتہ انھیں یہ ضرور معلوم ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ان کے گھر کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔
ان کے مطابق حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کو سکول سے نکالنا پڑا ہے۔
’گذشتہ چند ماہ سے ہر 10 روز بعد سلینڈر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ اب تو ہم ایک وقت کا کھانا پکاتے ہیں، دوسرے وقت کا نہیں پکا سکتے۔‘
محمد صغیر جتنا ایک ماہ میں کما پاتے ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ ایل پی جی کا سلینڈر خریدنے پر لگ رہا ہے۔
وہ اور ان کی اہلیہ مزدوری اور گھروں میں کام کر کے اپنے دو بچوں اور والد کا پیٹ پالتے ہیں۔
اسلام آباد کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی میں واقع ایک مکان کی چھت پر تعمیر ایک کمرے میں رہنے والے اس خاندان کے پاس پائپ لائن گیس کا کنکشن نہیں ہے۔
کمرے میں دروازہ تک موجود نہیں اور سردیوں میں اسے گرم رکھنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ یہی صورتحال مالی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے ملک کے متعدد گھرانوں کی ہے۔
بہت سی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں یا تو پائپ لائن گیس کے کنکشن موجود نہیں یا موجود ہونے کے باوجود گیس دستیاب نہیں، جس کے باعث گھریلو صارفین کا انحصار مکمل طور پر ایل پی جی سلینڈروں پر ہے۔
محمد صغیر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر اوگرا نے سرکاری قیمت مقرر کر رکھی ہے تو انھیں اس نرخ پر گیس کیوں دستیاب نہیں۔ حکومت نے حال ہی میں اس سوال کا جواب دیا ہے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
پاکستان کے وفاقی وزیرِ توانائی علی پرویز ملک نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ایل پی جی کھلی منڈی میں سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
انھوں نے اس کی ایک وجہ امریکہ۔ایران جنگ کے بعد پاکستان کی مغربی سرحدوں کی بندش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی 'افراتفری' اور 'ذخیرہ اندوزی' کو قرار دیا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما کی آمد سے پہلے ہی ایران کے ساتھ سرحدی بندش کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونا شروع ہو گئی تھی۔
'منافع خوری کرنے والے عناصر نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایل پی جی 700 روپے فی کلو کے لگ بھگ بھی فروخت کرنا شروع کر دی۔'
علی پرویز ملک کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی وجوہات صرف یہی نہیں بلکہ درآمدی نظام کی خامیاں اور گیس ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی اس بحران میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان اب بھی ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے پریشرائزڈ کنٹینرز پر انحصار کرتا ہے اور چھوٹے کنٹینرز با آسانی دستیاب نہیں ہیں۔ جبکہ بڑے گیس بردار جہازوں کے لیے پاکستانی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہونے کی سہولت بھی موجود نہیں۔
'اور اگر (بڑے گیس کنٹینر) آ بھی جائیں تو ہم گیس ذخیرہ کہاں کریں گے؟ اس کا کوئی انتظام نہیں۔ گذشتہ ادوار میں اس (شعبے) پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔'
وزیر توانائی کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ ایل پی جی کی درآمد اور فروخت کا کوٹہ سسٹم ہے جو چند مخصوص افراد کو دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نئی ایل پی جی پالیسی کے تحت 'چند افراد کی اجارہ داری' ختم کر کے مسابقتی نظام متعارف کرا رہی ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ طلب تقریباً 6500 سے 7000 ٹن ہے جبکہ مقامی پیداوار 2000 سے 2500 ٹن کے درمیان ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے ریستورانوں، ہوٹلوں، تندوروں اور کھانے پینے سے جڑے دیگر چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بڑے ریستورانوں پر ایل پی جی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے انھیں بڑے سلینڈرز زیادہ مقدار میں درکار ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک ریستوران کے مینیجر خضر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ 45 کلوگرام وزنی سلینڈر استعمال کرتے ہیں، جس کی قیمت ایک ماہ قبل تقریباً 14 سے 15 ہزار روپے تھی، مگر اب بڑھ کر 24 سے 25 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
'ہمارا روزانہ ایک سلینڈر استعمال ہوتا ہے۔ قیمت بڑھنے سے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ سردیوں میں ویسے ہی کاروبار سست پڑ جاتا ہے، اوپر سے اگر گیس بھی نہ ہو یا مہنگی ہو جائے تو کاروبار بالکل نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔'
ان کے مطابق ریستوران مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ پائپ لائن گیس دستیاب نہیں۔
'اگر ایل پی جی بھی ختم ہو گئی یا قوت خرید سے باہر ہو گئی تو ہمیں ریستوران بند کرنا پڑیں گے۔'
بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں ایک ہوٹل کے مالک نوید احمد کا کہنا ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے باعث انھیں اپنے تین میں سے دو ہوٹل بند کرنا پڑے۔
'اب صرف ایک ہوٹل چلا رہے ہیں۔ گیس صرف پانچ گھنٹے آتی ہے اور ایل پی جی 600 روپے فی کلو سے بھی اوپر جا چکی ہے۔'
پشاور میں ایک تندور کے مالک ضیا الرحمان کہتے ہیں کہ آٹے اور گیس دونوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی آمدن تقریباً ختم کر دی ہے۔
'آٹے کی ایک بوری 14 ہزار روپے میں آتی ہے اور گیس 600 روپے فی کلو سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم چھوٹی روٹی 20 اور بڑی 30 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ ایسے میں منافع تقریباً ختم ہو گیا ہے۔'
پشاور ہی میں ایک مقامی ہوٹل کے مالک لائل شاہ کے مطابق وہ گذشتہ 10 روز سے اپنے ملازمین کو اجرت ادا نہیں کر سکے۔
'اگر حالات یونہی رہے تو مجھے ہوٹل بند کرنا پڑے گا۔'
وزیر توانائی علی پرویز ملک کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین میں حکومت کا زیادہ عمل دخل نہیں ہے کیوں کہ عالمی سطح پر ایل پی جی کی بنیادی قیمت سعودی کمپنی آرامکو کی کنٹریکٹ پرائس سے منسلک ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں اوگرا ماہانہ بنیادوں پر اس کا نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت موسم سرما میں توانائی کی طلب پوری کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
'پائپ لائن گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اگر مہنگا ایندھن بھی خریدنا پڑا تو خریدا جائے گا، جبکہ ایل این جی (لیکوئیفائیڈ نیچرل گیس یا مائع قدرتی گیس) کے ذریعے دسمبر، جنوری اور فروری کی طلب پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔'
ان کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر یہ بھی یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گھریلو صارفین کو کھانا بنانے کے لیے کم از کم تین وقت گیس دستیاب ہو۔
تاہم، علی پرویز ملک کے مطابق، جن صارفین کے پاس پائپ لائن گیس موجود نہیں، ان کے لیے ایل پی جی ہی ایندھن کا بنیادی متبادل ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق حکومت ایل پی جی کے شعبے کو باقاعدہ ضابطے کے تحت چلانا چاہتی ہے۔
'مسابقت کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ سب سے سستا ایندھن درآمد کیا جائے اور صارفین تک کم قیمت پر اس کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔'
انھوں نے بتایا کہ چار سرکاری اداروں کو دوبارہ ایل پی جی درآمد کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ سپلائی یقینی بنائی جائے اور قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے۔
ان اداروں میں پاکستان سٹیٹ آئل، پارکو ایل پی جی، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس ایل پی جی شامل ہیں۔
وزیر توانائی کے مطابق ان اداروں کو ایل پی جی درآمد کرنے کی پیشکشیں موصول بھی ہو چکی ہیں اور اگر درآمد شدہ ایل پی جی نظام میں شامل ہو جاتی ہے تو قیمت تقریباً 450 روپے فی کلو تک آ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نجی درآمد کنندگان بھی کم قیمت پر ایل پی جی منگوانے کے لیے آزاد ہوں گے، جس سے مسابقت بڑھے گی اور قیمتیں بھی کم ہوں گی۔
نئی پالیسی کے تحت مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فروخت نیلامی کے ذریعے ہو گی جبکہ کوٹہ سسٹم ختم کر دیا گیا ہے۔
اوگرا مقامی یا درآمدی ایل پی جی کی قیمت مقرر نہیں کرے گا بلکہ مقامی پیداوار کی قیمت نیلامی سے طے ہو گی۔ مقامی اور درآمدی قیمتوں کے درمیان فرق ایک خصوصی فنڈ میں جمع کیا جائے گا۔
وزیر توانائی کے مطابق اسی فنڈ کے ذریعے مستحق افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رعایتی نرخوں پر ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔
ایل پی جی شعبے سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ نئی پالیسی سے فوری طور پر قیمتوں میں کمی کے امکانات محدود ہیں، بلکہ قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر کہتے ہیں: 'ہم کسی ایسی پالیسی کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں صارفین کو مزید مہنگی گیس ملے۔'
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومتی پالیسی سے گیس مزید مہنگی یو گی کیوں کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ایل پی جی کی درآمد پر عائد ٹیکسوں اور ٹرمینل چارجز میں کمی کرے یا انھیں ختم کر دے تو قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت ایل پی جی پر تقریباً 100 روپے فی کلو کے حساب سے ٹیکس اور دیگر حکومتی چارجز لاگو ہیں۔
انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنایا جائے اور 'منافع خوری کرنے والے افراد کے خلاف جوڈیشل انکوائری' کروائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ درآمد کنندگان بیرون ملک سے مہنگی ایل پی جی خریدتے ہیں اور مختلف ٹیکسوں اور اضافی اخراجات کے باعث اسے اوگرا کی مقامی قیمت کے برابر فروخت نہیں کر سکتے۔
'مقامی مافیا نے مقامی مقررہ قیمت پر دستیاب گیس کو درآمدی گیس کے نرخوں کے برابر فروخت کر کے اربوں روپے کمائے ہیں۔'
عرفان کھوکھر کے مطابق اگر اس صورتحال کی غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں تو منافع خوری کے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو