وزیراعظم، فضل الرحمان کی قدر اور عزت کرتے ہیں، وہ نہیں چاہیں گے کہ سیاسی طور پر مولانا ہمارے خلاف کھڑے ہوں: رانا ثنا

مولانا فضل الرحمان کو انگیج کرنا چاہیے وہ جس طرف جارہے ہیں ان کو روکا جاسکتا ہے، ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ مولانا نے یہ بات کردی ہے جواب اب بڑھ کردیا جانا مناسب ہے: مشیر وزیراعظم— فوٹو:فائل
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قدر اور عزت کرتے ہیں، وزیراعظم نہیں چاہیں گے کہ سیاسی طور پرمولانا ہمارے خلاف کھڑے ہوں۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ ملک میں ایک ایسا پراسرار ماحول پایا جاتا ہے کہ ہروقت کچھ نہ کچھ بات اس طرح ہورہی ہوتی ہے کہ یہ ہونے والا ہے وہ ہونے والے ہے جس کو غیریقینی کہہ سکتے ہیں، چوہدری سالک نے جو بات کی ان کے لیے یہ بات نامناسب تھی، لوگ بات کرتے ہیں کہ فلاں ہوگیا لیکن ان کے پاس ثبوت نہیں ہوتے۔
انہوں نے بتایاکہ خواجہ آصف نے کہا کہ اس قسم کی باتیں لوگ کرتے ہیں تو ان کی خواہشات اور پروگرام ہوتے ہیں، میں نے پوچھا کیا اس طرح کی کوشش بھی ہورہی ہے؟ خواجہ آصف نے جواب دیا کہ خواہشات تو ہوتی ہیں کوشش کوئی کرسکے یا نہ کرسکے یہ الگ چیز ہے، ان باتوں میں عملی طور پر کم اور افواہ سازی زیادہ ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ گروپ بنانے والے کا نام لے کر ذکر کروں گا تو ویسی ہی بات ہوگی جیسے چوہدری سالک نے کی، انہوں نے بات کی کہ الماری تو بھری ہوئی ہے مگر ثبوت میرے پاس کوئی نہیں، جب تک کوئی سامنے آکر بات نہ کرے تب تک کسی کا نام نہیں لے سکتے، سینہ گزٹ، افواہ سازی اور پروپیگنڈا ہمیشہ رہا ہے کہ یہ ہورہا ہے وہ ہورہا ہے۔
رانا ثنا نے مزید کہاکہ فیصل واوڈا جو گفتگو کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا مگر وہ بات کرتے ہیں، بعض اوقات فیصل واوڈا کی باتوں کا کچھ حصہ یا ملتی جلتی بات سامنے نظر آتی ہے، یہ چیزیں کسی نہ کسی جگہ سے چل رہی ہوتی ہیں، کبھی کوئی چیز ثابت بھی ہوجاتی ہے، وزیراعظم اس لیے ان باتوں پر خاموش ہیں کہ وہ ان میں الجھنا نہیں چاہتے ہیں، جب کچھ لوگ بات کرتے ہیں تو ان میں قدریں مشترک ہوتی ہیں، ہمیں سمجھ آرہی ہوتی ہے ، ان لوگوں میں قدریں مشترک ہوتی ہیں لیکن اس مشترکہ قدر کو اس طرح ڈسکس نہیں کیا جاسکتا۔
پروگرام میں رانا ثنا اللہ سے سوال کیا گیاکہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کون کررہا ہے؟ اس پر انہوں نے کہاکہ اس کا جو جواب آپ مجھے سے لینا چاہتے ہیں میں نہیں دوں گا، حکومتی ادارے ہی مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، اگر ایک ادارے کے ذمے ہے کہ تجاوزات ختم کرے تو اس کے مطابق ہے کام کرے گا۔
انہوں نے کہاکہ بعض حالات میں تجاوزات نظرانداز ہوتی ہیں ایک دفعہ نوٹس لے لیا جاتا ہے، ان چیزوں کو مائنس نہیں کیا جاسکتا،مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہرگارڈ کیبن پڑا ہے۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا میں جو صورتحال ہے اس میں ترجیح دہشت گردی ختم کرنا ہے اور ہونی چاہیے، پوری توجہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے پر ہونی چاہیے، سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہمارا دہشت گردی ختم کرنے کے سوا کوئی فوکس نہ ہو، مولانا فضل الرحمان کو انگیج کرنا چاہیے وہ جس طرف جارہے ہیں ان کو روکا جاسکتا ہے، ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ مولانا نے یہ بات کردی ہے جواب اب بڑھ کردیا جانا مناسب ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا نقطہ نظر ضرور ہے مگر ان پر خود دہشت گردوں کے حملے ہوئے ہیں، گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان بتارہے تھے کہ ان کوبھی بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں، ہماری سوچ ہے کہ کوشش ہوکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔
ان کا کہنا تھاکہ مولاناکے خلاف کارروائی کے بارے میں کوئی فارمل میٹنگ نہیں ہوئی، وزیراعظم نے نہ کسی کو کارروائی کا کہا ہے نہ روکا ہے ، پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کی میٹنگز ہوئیں، وزیراعظم مولانا فضل الرحمان کی قدر اور عزت کرتے ہیں، وزیراعظم نہیں چاہیں گے کہ سیاسی طور پرمولانا فضل الرحمان ہمارے خلاف کھڑے ہوں، وزرا جو باتیں کررہے ہیں وزیراعظم نے کسی کو منع بھی نہیں کیا لیکن کہا بھی نہیں کہ یہ باتیں کریں۔
بشکریہ جیو نیوز