بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

پاکستان
10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو وزیر اعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے ’وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے۔‘

اس بیان میں بتایا گیا کہ کابینہ کو ’نئے کرنسی نوٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔۔۔ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کے لیے ملک بھر سے مصوروں و ڈیزائنرز سے تجاویز لی گئیں اور وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز سے اس پر تفصیلی مشاورت کی۔‘

اجلاس کو بتایا گیا کہ ’جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے سکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید میٹریئل کا استعمال کیا جائے گا جس سے نوٹوں کے استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا۔‘

وزیر اعظم آفس کے مطابق ’وفاقی کابینہ نے دس روپے کے بینک نوٹ کی جگہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری بھی دے دی ہے۔‘

اگست میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس میں اعلان کیا تھا کہ مرکزی بینک کرنسی نوٹوں کی آئندہ سیریز میں سے 10 روپے کے نوٹ کے خاتمے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

اگست میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے سینیٹ فنانس کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ سٹیٹ بینک دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کا سکہ جاری کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

تاہم ستمبر کے دوران ترجمان مرکزی بینک نے کہا تھا کہ سٹیٹ بینک نے ابھی تک کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔

پاکستان میں ماضی میں کرنسی نوٹوں کو ختم کر کے ان کی جگہ سکے جاری کیے گئے ہیں۔ ماضی میں ایک، دو اور پانچ روپے کے کرنسی نوٹوں کو ختم کر کے ان کی جگہ سکے جاری کیے گئے ہیں۔

کرنسی نوٹوں کا خاتمہ کن وجوہات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے؟ اس بارے میں سٹیٹ بینک کے سابق گورنر سلیم رضا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق کرنسی کی ویلیو سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب کرنسی کی ویلیو کم ہوتی ہے تو چھوٹے نوٹوں کی ویلیو بھی کم ہوتی ہے اور ان سے کچھ نہیں خریدا جا سکتا۔

انھوں نے بتایا کہ آج دس روپے کی مالیت بہت کم ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ پھٹ جاتا ہے اور ختم ہو جاتا ہے جبکہ سکہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کم ویلیو والے کرنسی نوٹ کے بدلے میں سکے جاری کیے جاتے ہیں۔

مالیاتی امور کے ماہر راشد مسعود عالم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کرنسی نوٹ میں اس کی قوتِ خرید دیکھی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ایک کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید بہت کم ہو جاتی ہے تو پھر اسے آہستہ آہستہ ختم کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ کے بدلے میں سکہ جاری کرنے کی بات اس لیے عجیب ہے کہ سکے پر آنے والی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اصل مقصد کسی خاص نوٹ کی کم مالیت کی وجہ سے اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کی مالیاتی ویلیو بہت کم ہو جاتی ہے۔

راشد نے کہا کہ ماضی میں ایک، دو یا پانچ روپے کے کرنسی نوٹ ختم کر کے ان کے سکے جاری کیے گئے تھے، تاہم کیا اب وہ سکے کہیں نظر نہیں آتے۔

راشد کے مطابق جب کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے تو کم مالیت کے نوٹ اور سکے اپنی قوتِ خرید کھو دیتے ہیں اور پھر ان کا استعمال بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے۔

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

ملک میں دس روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کر کے اس کی جگہ دس روپے مالیت کے سکے جاری کرنے کے بارے میں ڈپٹی گورنر کے بیان کے مطابق اس کی وجہ کرنسی نوٹ کی چھپائی کی زیادہ لاگت ہے۔

پاکستان میں سٹیٹ بینک کی جانب سے اپنی سالانہ مالیاتی رپورٹ برائے مالی سال 26-2025 میں ظاہر کیا گیا ہے کہ پورے سال میں کرنسی نوٹوں پر چھپائی کی لاگت 29.6 ارب روپے رہی، جو اس سے ایک سال قبل 27.8 ارب روپے تھی۔

سٹیٹ بینک نے تمام کرنسی نوٹوں پر آنے والی مجموعی لاگت کے اعداد و شمار دیے ہیں جن میں مختلف مالیت کے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کے اخراجات الگ سے ظاہر نہیں کیے گئے ہیں۔

راشد مسعود نے اس سلسلے میں بتایا کہ بلاشبہ کرنسی نوٹ کی ایک لاگت ہوتی ہے اور اس کی سیاہی اور کاغذ بھی مہنگا ہوتا ہے اور ایک خاص جگہ سے خریدا جاتا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس کی چھپائی آسان ہوتی ہے۔ دوسری جانب سکے کو ڈھالنے کا عمل مشکل ہوتا ہے اور وہ مہنگا بھی ہے کیونکہ اس میں شامل دھات بھی مہنگی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اصل میں کرنسی نوٹ ختم کرنے کے پس پردہ چھپائی کی لاگت نہیں بلکہ اس کرنسی نوٹ کی ویلیو کا کم ہونا ہے کیونکہ اس کے اندر قوتِ خرید کے ختم ہونے سے اس کی طلب ختم ہو جاتی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو