امریکا میں پائلٹس کا دورانِ پرواز آسمان پر چاندی نما پُراسرار شے دیکھنے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی ریاست اوہائیو کے قریب پرواز کرنے والے پائلٹس نے ایک عجیب و غریب اور پراسرار فضائی شے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے جس نے ماہرین کو بھی شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 16 اگست کو پیش آیا تھا۔
اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پائلٹس نے فضا میں ایک چمکدار شے دیکھی جو کسی کیپسول کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ طیارے کے عملے نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا مگر انہیں بتایا گیا کہ ریڈار پر ایسی کسی شے کا کوئی وجود نہیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق پائلٹ نے اس شے کی تصویر بھی بنائی ہے جس میں وہ چاندی کی طرح چمکدار اور ہموار نظر آ رہی ہے۔ اس پر کوئی جوڑ یا نشان موجود نہیں تھا جو اسے عام انسانی ساختہ طیاروں سے بالکل مختلف اور منفرد بناتا ہے۔
پائلٹ نے بتایا کہ ان کا طیارہ گرج چمک والے بادلوں سے گزر رہا تھا جب یہ شے نمودار ہوئی۔ شدید موسمی حالات کے باوجود اس شے کا ساکن حالت میں موجود رہنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ ایسے موسم میں غبارے کا وہاں ہونا ناممکن ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ سسٹم اور طیارے کے تصادم سے بچاؤ کے آلات نے بھی اس شے کی موجودگی کی کوئی نشاندہی نہیں کی۔ ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے بھی کسی بھی نامعلوم فضائی شے کے ریڈار پر نظر آنے کی تردید کی ہے جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انجن پر برف جمنے اور شدید فضائی جھٹکوں کے دوران اس شے کا مشاہدہ انتہائی حیران کن ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ کوئی غیر معمولی ٹیکنالوجی ہے یا محض کوئی موسمیاتی مظہر، جس کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
نیشنل یو ایف او رپورٹنگ سینٹر نے اس واقعے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔
اگرچہ پائلٹ نے اس کی تصویر حاصل کر لی ہے مگر سائنسدانوں کے پاس ابھی تک اس پراسرار فضائی شے کی اصلیت کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت