غنودگی میں گاڑی چلانا نشے میں ڈرائیونگ کے مترادف ہے: ماہرین

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے غلبے میں گاڑی چلانے کو بھی شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کرنے جتنا سنگین معاملہ تصور کیا جانا چاہیے۔
نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے حالیہ سروے کے مطابق امریکا میں 10 میں سے 6 سے زائد ڈرائیورز شدید غنودگی کی حالت میں گاڑی چلا چکے ہیں، جس سے سڑکوں پر تحفظ اور ڈرائیونگ کے دوران تھکاوٹ کے باعث پیش آنے والے خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں تقریباً 14 کروڑ 50 لاکھ بالغ افراد غنودگی کی حالت میں گاڑی چلا چکے ہیں، جن میں سے لگ بھگ 3 کروڑ 50 لاکھ افراد ایسا کم از کم مہینے میں 1 مرتبہ کرتے ہیں۔
مزید برآں سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد ڈرائیورز تھکاوٹ کی ابتدائی علامات کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔
تقریباً 40 فیصد ڈرائیورز آنکھوں کے بار بار جھپکنے، سر کے جھکنے یا گاڑی کے اپنی لین سے باہر نکلنے جیسی علامات محسوس نہیں کر پاتے، حالانکہ یہ شدید تھکاوٹ اور غنودگی کی نشانیاں ہیں۔
آسٹریلیا: سڑک پر بیٹھی پاکستانی طالبہ گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق، ڈرائیور جیل جانے سے بچ گیا
رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مہلک ٹریفک حادثات میں سے تقریباً ہر پانچویں حادثے میں غنودگی کی حالت میں ڈرائیونگ کا کردار ہوتا ہے، جو مناسب آرام کے بغیر گاڑی چلانے کے ممکنہ سنگین نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
ماہرینِ سائنس کا کہنا ہے کہ نیند کے غلبے میں گاڑی چلانے کو بھی شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کرنے جتنا سنگین معاملہ سمجھا جانا چاہیے۔
سروے کے مطابق 62 فیصد امریکی شہریوں نے اس بات کی حمایت کی ہے کہ اگر غنودگی کی حالت میں گاڑی چلانے کے نتیجے میں کوئی شخص شدید زخمی ہو یا اس کی موت واقع ہو جائے تو اسے غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔
خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے فاؤنڈیشن نے بالغ افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی نیند لینے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔
ادارے نے ایسے ڈرائیورز کو بھی مشورہ دیا ہے جنہوں نے مناسب نیند نہیں لی ہو کہ وہ تھکاوٹ کی حالت میں گاڑی چلانے کا خطرہ مول لینے کے بجائے آمد و رفت کے لیے کسی متبادل ذریعے کا انتظام کریں۔
اس کے علاوہ تنظیم نے زور دیا ہے کہ اگر کوئی شخص حد سے زیادہ تھکاوٹ کے باوجود گاڑی چلانے کی تیاری کر رہا ہو تو اسے ایسا کرنے سے روکنے کے لیے بروقت آواز اٹھائی جائے۔
سروے کے نتائج اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ نیند کی کمی کو سڑکوں پر تحفظ کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے، کیونکہ تھکاوٹ ڈرائیورز کی توجہ، چوکنا رہنے کی صلاحیت اور سڑک کی بدلتی صورتِ حال کے مطابق فوری ردِعمل دینے کی استعداد کو متاثر کر سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ