جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

ملک میں چھوٹے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، خالد اصغر گھرال

تازہ ترین
ملک میں چھوٹے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے، خالد اصغر گھرال

تحصیل جلال پور جٹاں ضلع گجرات سے پنجاب اسمبلی کے رکن اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری خالد اصغر گھرال نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبوں کا قیام بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

چوہدری خالد اصغر گھرال نے گلاسگو میں عشائیے سے خطاب میں کہا کہ پنجاب کی آبادی تیرہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث حکومت کے لیے پورے صوبے کے مسائل پر یکساں توجہ دینا اور عوام کے لیے سرکاری اداروں تک آسان رسائی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، اس لیے پنجاب کو تین یا چار انتظامی صوبوں میں جبکہ دیگر بڑے صوبوں کو بھی انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

چوہدری خالد اصغر گھرال نے مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان کا کردار غیر زمہ دارانہ اور افسسوسناک ہے، ماضی میں وہ اسٹیبلمنٹ کے سہارے تقریباً ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ اگر اس مرتبہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہیں تو ایک سینئر سیاسی رہنما کی حیثیت سے انہیں جمہوری اور پرامن کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن موجودہ وقت میں ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز خصوصا بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے سنگین حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو بشمول مولانا فضل الرحمان قومی مفاد میں مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ملک کے استحکام کے لیے فوج اور دیگر ریاستی اداروں ے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

چوہدری خالد اصغر گھرال نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے انتہائی مشکل حالات میں بیرون ملک زندگی کا آغاز کیا، آج وہ اپنی محنت، قابلیت اور دیانت کے باعث کاروبار، تعلیم، سیاست اور دیگر شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی نئی نسل کا پاکستان، اپنی ثقافت اور مذہبی اقدار سے رشتہ جوڑے رکھنے پر خصوصی توجہ دیں۔

چوہدری احسن گھرال نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں سیلاب، زلزلے یا دیگر قدرتی آفات آئی ہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں نے ہمیشہ فراخ دلی سے امداد کی ہے۔ یہی پاکستانی ہر سال چالیس ارب ڈالر سے زائد زرِ مبادلہ وطن بھیج کر ملکی معیشت کو سہارا دیتے ہیں اور لاکھوں خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ جب وہ پاکستان جاتے ہیں تو ایئرپورٹ سے لے کر اپنے گھروں تک مختلف مراحل پر انہیں مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس موقع پر میزبان چوہدری طارق گوندل نے کہا کہ اگر حکومت بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرے، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تو اوورسیز پاکستانی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔آخر میں چوہدری خالد اصغر گھرال نے شرکا کو یقین دلایا کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل معتلقہ حکام کے سامنے پیش کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ