جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

بینک آف انگلینڈ نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

تازہ ترین
بینک آف انگلینڈ نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

بینک آف انگلینڈ نے تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 3.75 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا۔

بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے نو میں سے آٹھ ارکان نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کی حمایت کی، جبکہ کیتھرین ایل مان نے اس سے بھی بڑے اضافے کی حمایت کرتے ہوئے شرح سود 4.25 فیصد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

شرح سود میں اس اضافے کے نتیجے میں خصوصاً ان افراد پر مالی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے جنہوں نے متغیر شرح سود (Variable Rate) یا ٹریکر مارگیج (Tracker Mortgage) پر قرض لے کر مکانات خرید رکھے ہیں، کیونکہ ان کی ماہانہ اقساط میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب بینکوں اور بلڈنگ سوسائٹیوں میں بچت رکھنے والے صارفین کو اپنی جمع پونجی پر نسبتاً بہتر منافع ملنے کی توقع ہے۔

بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ حالیہ اضافہ مسلسل اور طویل عرصے تک شرح سود بڑھانے کے سلسلے کا آغاز نہیں، تاہم اگر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع، برقرار رہا اور توانائی کی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں کمی نہ آئی تو آئندہ اجلاسوں میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے متعدد ارکان کا کہنا تھا کہ توانائی کی بلند قیمتیں توقع سے زیادہ عرصہ برقرار رہیں تو اجرتوں اور دیگر قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے مہنگائی مزید دیر تک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔ تاہم بعض ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر معاشی سرگرمی سست پڑی یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تو مزید شرح سود بڑھانے کی ضرورت نہیں بھی پڑ سکتی۔

اس وقت برطانیہ میں مہنگائی کی سالانہ شرح 3.5 فیصد ہے، جبکہ بینک آف انگلینڈ کا ہدف اسے 2 فیصد تک لانا ہے۔

بینک نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ شرح سود کے فیصلے پہلے سے طے شدہ نہیں ہوں گے بلکہ مہنگائی، اجرتوں، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لے کر ہر اجلاس میں الگ فیصلہ کیا جائے.

بشکریہ روزنامہ جنگ