میر رضا قتل کیس: جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 7 نومبر کو طلب کرلیا گیا

میر رضا: فائل فوٹو
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس 7 نومبر کو طلب کرلیا گیا۔ جے آئی ٹی ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق جے آئی ٹی کا اجلاس ڈی آئی جی ویسٹ کے دفتر میں قائم کانفرنس روم میں منعقد ہوگا۔
اجلاس میں حساس اداروں کے 18 گریڈ یا اس سے زائد رینک کے نمائندے، پاکستان رینجرز سندھ، اور این سی سی آئی اے کے 18 گریڈ کے افسران کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ کو بھی جے آئی ٹی اجلاس میں طلب کیا گیا ہے تاکہ ان کا مؤقف ریکارڈ کرنے کے ساتھ پیش کیے جانے والے شواہد کا جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ کے حکم نامہ کی روشنی میں عمل میں کی گئی ہے۔
میر رضا قتل کیس تھانہ فیروزآباد میں مقدمہ الزام نمبر 795/2026 بجرم دفعات 365، 302 اور 201 تعزیرات پاکستان کے تحت درج ہے۔
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ کی جانب سے متعلقہ اداروں کے نمائندگان اور مقتول کے اہل خانہ کو جے آئی ٹی اجلاس میں شرکت کے لیے باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر:۔
خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا، ڈرائیور نے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
بشکریہ روزنامہ جنگ