کراچی: غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی، 273 افراد گرفتار، 300 سے زائد لیپ ٹاپ تحویل میں

شارع فیصل کراچی میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف این سی سی آئی اے نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 273 افراد کو گرفتار کرلیا اور 300 سے زائد لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیے۔
گرفتار افراد میں 100 سے زائد خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے مختلف نوعیت کے فراڈز اور اسکیموں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
این سی سی آئی اے نے خفیہ اطلاع پر کراچی میں شارع فیصل پر واقع عمارت پر چھاپہ مارا اور غیرقانونی کال سینٹرز آپریٹ کرنے والی تین بڑی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی، اس دوران 273 افراد کو گرفتار اور 300 سے زائد لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیے گئے۔ گرفتار افراد میں خواتین کے علاوہ کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ روایتی جرائم اب سائبر کرائم کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ملزمان ان کمپنیوں کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا مختلف طریقوں سے حاصل کرکے فراڈ اور اسکیموں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ تمام شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق کراچی میں 300 سے زائد غیر قانونی کال سینٹرز کی نشاندہی بھی ہوئی ہے جن کے خلاف جلد کارروائی شروع کی جائے گی۔ ملزمان کے اہل خانہ نے گرفتاریوں کیخلاف گزشتہ رات احتجاج بھی کیا تھا۔
بعد ازاں عدالت نے 9 ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا، 18 سال سے کم عمر اور خواتین ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، دیگر ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کی۔
تفتیشی افسر نے ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا اور بتایا کہ گرفتار 273 ملزمان کو کال سینٹر میں ہی حراست میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ نے کال سینٹر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ