امریکی ارب پتی وارن بفیٹ کا گزشتہ 48 برس سے سادہ پانی نہ پینے کا انکشاف

امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ—فائل فوٹو
امریکی ارب پتی ہیج فنڈ منیجر بل ایکمین نے دوسرے امریکی ارب پتی سرمایہ کار وارن بفیٹ سے متعلق دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 48 برس سے سادہ پانی نہیں پیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران امریکی ارب پتی ہیج فنڈ منیجر بل ایکمین نے وارن بفیٹ کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا۔
بل ایکمین کے مطابق ایک عشائیے کے دوران جب میں نے وارن بفیٹ کو سادہ پانی پیش کیا تو انہوں نے معذرت کر لی اور بتایا کہ میں نے تقریباً 5 دہائیوں سے پانی نہیں پیا، اس کے بجائے میں اپنے پسندیدہ سافٹ ڈرنک کو ترجیح دیتا ہوں۔
’’وارن بفیٹ‘‘ کی زندگی بدلنے والی 2 کتابیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سرمایہ کار کھانے پینے کے حوالے سے اپنے غیر روایتی انتخاب کے باعث بھی جانے جاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق وہ روزانہ سافٹ ڈرنک کے تقریباً 5 کین استعمال کرتے ہیں۔
2015ء میں امریکی جریدے فارچیون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وارن بفیٹ نے مذاقاً کہا تھا کہ میری روزانہ 2,700 کیلوریز کی خوراک کا ایک چوتھائی حصہ سافٹ ڈرنک سے حاصل ہوتا ہے۔
امریکی سرمایہ کار کی یہ عادت بظاہر حیران کن ہو سکتی ہے، تاہم اس سے ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر کوئی شخص سادہ پانی نہ پیے تو اس کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
انسانی جسم کے تقریباً تمام اہم افعال کے لیے پانی درکار ہوتا ہے، اگرچہ چائے، کافی اور دودھ جیسے مشروبات بھی جسم میں سیال کی مقدار بڑھاتے ہیں، لیکن پانی کی جگہ میٹھے سافٹ ڈرنکس کا باقاعدگی سے استعمال صحت کے لیے موزوں نہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ