جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

چین کے امریکی ریاست میزوری کیخلاف 53.5 ارب ڈالر ہرجانے کے دعوے پر سماعت شروع

تازہ ترین
چین کے امریکی ریاست میزوری کیخلاف 53.5 ارب ڈالر ہرجانے کے دعوے پر سماعت شروع

چین کی عدالت نے کورونا وائرس سے متعلق مبینہ جھوٹی معلومات پھیلانے اور چین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں امریکی ریاست میزوری کے خلاف 53.5 ارب ڈالرز کے ہرجانے کے مقدمے کی سماعت شروع کر دی۔

ووہان کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں یہ مقدمہ ووہان کی میونسپل حکومت، ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی اور چینی اکیڈمی آف سائنسز نے دائر کیا ہے۔

مقدمے میں امریکی ریاست میزوری کے علاوہ موجودہ اور سابق اٹارنی جنرلز ایرک شمٹ اور اینڈریو بیلی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

چینی مدعی اداروں کا مؤقف ہے کہ میزوری کے حکام نے بدنیتی پر مبنی قانونی کارروائی کی اور کورونا وائرس کی ابتداء سے متعلق چین کے خلاف جھوٹی، امتیازی اور توہین آمیز معلومات پھیلائیں جس سے چینی اداروں اور حکام کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

کورونا وائرس، چین میں مزید 86 ہلاکتیں، امریکا کا 10 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

چینی فریق نے 356.4 ارب یوآن، یعنی تقریباً 53.5 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی اور بین الاقوامی میڈیا سمیت نیویارک ٹائمز، سی این این، یوٹیوب اور چینی خبر رساں ادارے شنہوا پر باضابطہ عوامی معافی شائع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ امریکی ریاست میزوری کی جانب سے اپریل 2020ء میں چین کے صوبے ہوبے اور دیگر چینی فریقوں کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

میزوری نے کورونا کی وباء کے باعث ہونے والے مبینہ معاشی نقصانات کا ذمے دار چین کو قرار دیتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔

مارچ 2025ء میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے یک طرفہ فیصلے میں چین کو میزوری ریاست کو 24 ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا، یہ دعویٰ وباء سے متعلق ذمے داریوں اور حفاظتی طبی سامان کے تنازع سے جڑا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق چین کی جانب سے دائر کیا گیا نیا مقدمہ میزوری کے لیے امریکی عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور بیرونِ ملک چینی اثاثوں کی ضبطی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ