جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

مصنوعی ذہانت سے جلد بجلی و مالیاتی نظام کا بڑا بحران جنم لے سکتا ہے: اے آئی گاڈ فادر جیفری ہنٹن کی وارننگ

تازہ ترین
مصنوعی ذہانت سے جلد بجلی و مالیاتی نظام کا بڑا بحران جنم لے سکتا ہے: اے آئی گاڈ فادر جیفری ہنٹن کی وارننگ

نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن---فائل فوٹو

مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث رواں سال یا اگلے سال چرنوبل جیسے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں بجلی یا مالیاتی نظام عارضی طور پر مفلوج ہو سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار گارجیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا کہ میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مایوسی کا شکار نہیں، میرے خیال میں انسانیت اس ٹیکنالوجی کو ایجاد نہ کرتی تو بہتر ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ رواں سال یا اگلے سال مصنوعی ذہانت کے باعث چرنوبل جیسا کوئی واقعہ پیش آ سکتا ہے جس سے عالمی رہنما اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر سنجیدگی سے توجہ دینے پر مجبور ہوں گے۔

سائنسدان نے واضح کیا کہ میری مراد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں سے ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کی دوڑ میں شامل معروف کاروباری شخصیات مارک زکربرگ، ایلون مسک اور سیم آلٹمین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’انسانوں کے کوئی اصول نہیں‘، 14 اے آئی ماڈلز کا انسانوں سے متعلق رائے کا اظہار

جیفری ہنٹن کے مطابق یہ شخصیات مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہیں لیکن ان کے خیال میں ان شخصیات کو مالی فائدہ زیادہ عزیز ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کی موجودہ ترقی کی بنیاد رکھنے والے جیفری ہنٹن ماضی میں گوگل سے وابستہ رہے ہیں تاہم ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر کھل کر بات کرنے کے لیے انہوں نے ادارے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

وہ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کے نظام اپنی زبان اور سوچنے کے طریقے خود تیار کرنے لگے تو صورتِ حال انسانوں کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

سائنسدان کے مطابق مصنوعی ذہانت خطرناک خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکی ہے اور مستقبل میں مشینوں کی سوچ کو سمجھنا انسانوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

جیفری ہنٹن کا کہنا ہے کہ ابھی انسان مصنوعی ذہانت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور مناسب اقدامات اور بھرپور کوششوں کے ذریعے کسی بڑے سانحے کو روکا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ