جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیلی الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے نیتن یاہو کے الزامات مسترد کر دیے

تازہ ترین
اسرائیلی الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے نیتن یاہو کے الزامات مسترد کر دیے

اسرائیل کے الیکشن کمیشن نے حالیہ انتخابات کے حتمی نتائج کی توثیق کر دی۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کا انتہائی دائیں بازو پر مشتمل حکومتی اتحاد پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت سے محروم ہو گیا۔

اسرائیلی الیکشن کمیشن نے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔

نیتن یاہو کے مرکزی سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے کہا ہے کہ اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش میں نیتن یاہو نے درست ووٹوں کو مشکوک قرار دے کر اور فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کی قیادت میں قائم جماعتوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کو استعمال کر کے جمہوریت کے خلاف منظم حملہ شروع کر رکھا ہے۔

اسرائیلی انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کا الزام، موساد بھی تحقیقات کیلئے میدان میں آگئی

اسرائیلی الیکشن کمیشن کے حکام نے بدھ کے روز حتمی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کیے، اس سے قبل اسرائیلی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ انتخابات بڑے پیمانے پر بیرونی مداخلت اور ووٹوں میں دھاندلی سے متاثر ہوئے ہیں۔

مرکزی الیکشن کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جائزے کے دوران ایسی کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں ملا جس سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہوئی ہو یا ان کے نتائج پر اثر پڑا ہو۔

کمیٹی کے سربراہ نوعم سولبرگ نے کہا ہے کہ بعض شکوک و شبہات کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر مجموعی انتخابی عمل پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا اور نہ ہی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا جواز پیدا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے انتخابات کے نتائج کا سرکاری طور پر اعلان کر دیا، جس کے مطابق نیتن یاہو اتحاد کو 53 نشستیں اور اپوزیشن جماعتوں کو 67 نشستیں ملنے کی تصدیق کی گئی، جبکہ 19 نشستیں عرب جماعتوں کو ملیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ