بدھ، 4 نومبر، 2026 · 25 جمادی الاول، 1448 ہجری

حکومت 3 سال پہلے بنے قانون کے بالکل برعکس ترامیم کر رہی ہے، سلیم مانڈوی والا

تازہ ترین
حکومت 3 سال پہلے بنے قانون کے بالکل برعکس ترامیم کر رہی ہے، سلیم مانڈوی والا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سربراہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ حکومت 3 سال پہلے بنائے گئے قانون کے بالکل برعکس ترامیم کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی اجلاس میں پاکستان ساورن ویلتھ فنڈترمیمی بل 2026ء پر غور کیا گیا ،حکام وزارت خزانہ نے شرکاء کو بتایا کہ یہ فنڈ2023ء کا قانون 3 سال پہلے منظور ہوچکا ہے۔

حکام کے مطابق حکومت اب اس میں ترامیم کررہی ہے، نئی ترمیم کے تحت ساورن ویلتھ فنڈ غیرملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق ترامیم کے تحت ساورن ویلتھ فنڈ صرف مقامی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرےگا،ہمارےخیال میں غیرملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت موجودنہیں۔

حکام وزارت خزانہ کے مطابق ترمیم کےتحت کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ حکومت کے پاس آئیں گے، ساورن ویلتھ فنڈ میں پروفیشنلز کےاختیارات کو بڑھایاگیاہے،فنڈ میں بیوروکریسی کے اختیارات کو کم کیا جارہا ہے۔

اس پر چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے استفسار کیا کہ کیا یہ ترامیم آئی ایم ایف کے کہنے پر کی جارہی ہیں؟

وزارت خزانہ کے حکام نے وضاحت کی کہ موجودہ قانون کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ کا دائرہ کار بہت وسیع تھا، فنڈ کا دائرہ کار محدود کیا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق ساورن ویلتھ فنڈ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے، اس فنڈ کے ذریعے مختلف اداروں کو کنٹرول کیا جائے گا، فنڈ کا بورڈ مختلف کمپنیوں کو کنٹرول کرے گا۔

دوران اجلاس سلیم مانڈوالا نے کہا کہ حکومت 3 سال پہلے بنائےقانون کے بالکل برعکس ترامیم کررہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ