پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیاں، نیب نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے اسعد محمود کو طلب کر لیا

اسعد محمود---فائل فوٹو
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیرِ مواصلات اسعد محمود کو مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر قومی احتساب بیورو (نیب) نے طلب کر لیا۔
نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے پیش ہونے کا نوٹس جاری کر دیا۔
نوٹس کے مطابق اسعد محمود کے دورِ وزارت (2022ء تا 2023ء) کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیب کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں 3 ہزار 938 اسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد بھرتی کیے گئے۔
وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود نے بم پروف گاڑی واپس کردی
نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کے برخلاف 2 ہزار 646 ختم شدہ اسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں۔
نیب کے مطابق کنٹریکٹ بنیادوں پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیوں کی سفارش کے باوجود مستقل تقرریاں کی گئیں۔
نوٹس میں جعلی اور بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں کی بھرتیوں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔
نیب نے خبردار کیا ہے کہ طلبی کے نوٹس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسعد محمود کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔
ایف آئی اے نے انہیں 2 نومبر کو صبح 11 بجے پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں سے متعلق مبینہ سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔
بشکریہ روزنامہ جنگ