سوانا باتھ کا صرف 1 سیشن بھی مدافعتی نظام متحرک کر سکتا ہے: تحقیق

فن لینڈ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوانا باتھ کا صرف 30 منٹ کا 1 سیشن بھی جسم کے مدافعتی نظام پر فوری اثر ڈال سکتا ہے اور خون میں سفید خلیات کی تعداد میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔
سائنسی جریدے سائنس الرٹ کی رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے محققین نے ایک تجربے کے دوران 51 درمیانی عمر کے مرد و خواتین کو روایتی فنش سوانا سیشن میں شامل کیا۔
شرکاء نے تقریباً 73 ڈگری سینٹی گریڈ گرم اور خشک ماحول میں 30 منٹ گزارے، جبکہ اس دوران ایک مرتبہ ٹھنڈے پانی سے غسل بھی کیا۔
مصنوعی ذہانت کا صرف 10 منٹ استعمال بھی ہمت کم کر سکتا ہے: تحقیق میں انکشاف
تحقیق کے مطابق سوانا سیشن کے فوراً بعد شرکاء کے خون میں سفید خلیات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، ان میں نیوٹروفِلز شامل تھے، جو جسم میں جراثیم کے خلاف ابتدائی دفاع کرتے ہیں، جبکہ لمفوسائٹس بھی بڑھے، جو مدافعتی نظام کی یادداشت بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ مونوسائٹس کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، جو جراثیم اور جسمانی فاضل مادوں کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح سوزش کے ردِعمل سے منسلک ایوزینوفِلز اور بیسوفِلز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یونیورسٹی آف ترکو کے محقق اور ورزش کے ماہر الکا ہینونن کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوانا باتھ کے دوران بافتوں میں موجود اضافی سفید خلیات خون میں شامل ہو سکتے ہیں اور سیشن کے بعد دوبارہ اپنی جگہ منتقل ہو جاتے ہیں، سفید خلیات کا وقفے وقفے سے خون میں آنا جسم کو جراثیم کے خلاف بہتر طور پر متحرک رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ سوانا سیشن ختم ہونے کے 30 منٹ بعد سفید خلیات میں ہونے والا بیشتر اضافہ کم ہو چکا تھا، اگرچہ کچھ مونوسائٹس بدستور خون میں موجود تھے، مدافعتی نظام کے پیغام رساں پروٹینز، جنہیں سائٹوکائنز کہا جاتا ہے، ان کی سطح میں مجموعی طور پر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ