وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں فوڈ واک منصوبے کا افتتاح کردیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھی مسلم سوسائٹی میں فوڈ واک منصوبے کا افتتاح کردیا۔
کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبے کا آغاز یکم فروری 2026 کو ہوا اور اکتوبر میں مکمل کرلیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دیگر ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو بھی سندھی مسلم فوڈ واک منصوبے سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو منتقل کردیا گیا ہے، مقصد ٹی ایم سیز کے مالی وسائل، خدمات کی فراہمی کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، سندھی مسلم فوڈ واک جدید، منظم اور متحرک کراچی کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی کہا کہ سندھی مسلم فوڈ واک کا منصوبہ 25 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، منصوبے کے تحت بجلی کے اوور ہیڈ تاروں کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوڈ واک میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا ہے، شجرکاری، لینڈ اسکیپنگ، چوراہوں کی خوبصورتی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ فوڈ واک منصوبےمیں پارکنگ، متبادل راستوں، ٹریفک انتظامات کو بہتر بنایا گیا ہے، منصوبے کے تحت ٹریفک سائن بورڈز اور سڑکوں پر نشانات بھی نصب کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیدل چلنےوالوں کی حفاظت اور ٹریفک کا بہترانتظام یقینی بنایا جائے، پراپرٹی ٹیکس کی منتقلی کامقصد ٹی ایم سیز کے مالی وسائل، خدمات کی فراہمی کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کلک پروگرام کے ذریعے کراچی کی ٹی ایم سیز میں بلدیاتی انفرا اسٹرکچر بہتر بنایا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ٹاؤن انتظامیہ نے اپنی آمدنی سے بنایا ہے، یہ چیز باقی ٹاؤنز میں بھی نظر آنی چاہیے،مہینے میں ایک بار ضرور فوڈ واک پر آؤں گا۔
انہوں نے کہا کہکھمبا دیکھ کر ڈر گیا کہ شاید یہاں بھی کوئی کھمبا ہے،آج کل لوگ کھمبوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اچھا ہے یہ کھمبوں کے پیچھے ہیں اور ہم بڑے بڑے کام کرتے رہیں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پورے سندھ کو اسلحہ فری کرنا چاہتا ہوں۔ گاڑیوں میں مسلح افراد کو کھلے عام نہیں بٹھانا چاہیے، پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز کے پاس بھی اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ