آنتوں کا عام بیکٹیریا بڑی آنت کے کینسر کا سبب کیسے بنتا ہے؟ سائنسدانوں نے سراغ لگا لیا

طبی اور سائنسی تحقیق کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ امریکی ریاست میری لینڈ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے محققین نے طویل عرصے سے چلے آ رہے اس طبی معمے کو حل کر لیا کہ آنتوں میں پایا جانے والا ایک عام بیکٹیریا کس طرح بڑی آنت کے کینسر کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ اہم سائنسی پیش رفت جان ہاپکنز کمل کینسر سینٹر، اس کے بلومبرگ۔کمیل انسٹی ٹیوٹ فار کینسر امیونو تھراپی، اور جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک ٹیم کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔
جریدہ ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ’کلاؤڈن-4‘ نامی پروٹین کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ’بی ایف ٹی‘ نامی بیکٹیریل کے لیے جسم میں جڑنے کا بنیادی اور لازمی نکتہ بنتا ہے۔
محققین کے مطابق ’بیکٹیروئڈز فریجلیس‘ نامی بیکٹیریا ایک ایسا طاقتور زہریلا مادہ (Toxin) خارج کرتا ہے جو بڑی آنت کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے، شدید سوزش کا سبب بنتا ہے اور ٹیومر بننے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
دو دہائیوں کی تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے ’CRISPR‘ جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کا سراغ لگا لیا کہ یہ زہریلا مادہ سب سے پہلے آنتوں کے خلیات پر موجود ’کلاؤڈن-4‘ نامی پروٹین سے جڑتا ہے، جو اس حملے کا دروازہ بنتا ہے۔
سائنسدانوں نے اس دریافت کی بنیاد پر ایک ایسا حفاظتی مالیکیول (Decoy) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جو بیکٹیریا کے زہر کو اصل خلیات تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی طرف کھینچ کر ناکارہ بنا دیتا ہے۔
تجربات کے دوران اس حکمت عملی نے کامیابی کے ساتھ جانوروں کو اس نقصان دہ اثر سے محفوظ رکھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں بڑی آنت کے کینسر کے بروقت علاج، اس کی پیشگی روک تھام اور نئی ادویات کی تیاری میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ