جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

جناح اسپتال کراچی میں بجلی بند، جنریٹرز بھی ناکارہ، 2 مریض جاں بحق، درجنوں کی حالت غیر

تازہ ترین
جناح اسپتال کراچی میں بجلی بند، جنریٹرز بھی ناکارہ، 2 مریض جاں بحق، درجنوں کی حالت غیر

کراچی کے جناح اسپتال میں پوری رات بجلی بند رہی جبکہ ہنگامی جنریٹرز بھی سافٹ ویئر خرابی کے باعث ناکارہ ہوگئے جس کے بعد دو مریض جاں بحق جبکہ درجنوں کی حالت غیر ہوگئی۔ آئی سی یو سمیت مختلف شعبوں میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ڈاکٹرز اور طبی عملہ ساری رات مریضوں کی جانیں بچانے میں مصروف رہا۔

سندھ کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن نے اسپتال کے ہنگامی طبی نظام کی قلعی کھول دی۔

گزشتہ شب سے صبح تک بجلی کی فراہمی معطل رہنے کے باعث جہاں اسپتال کے مختلف شعبوں میں علاج معالجے کا نظام بری طرح متاثر ہوا وہیں آئی سی یو میں زیر علاج دو مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ درجنوں مریضوں کی حالت غیر ہوگئی۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باوجود اسپتال انتظامیہ مریضوں کی زندگیوں کو سہارا دینے والا متبادل بجلی کا نظام فعال کرنے میں ناکام رہی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نصب جنریٹرز بھی نہ چل سکے۔

بجلی کی عدم فراہمی کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈز سمیت مختلف شعبوں میں زیر علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وینٹی لیٹرز اور دیگر زندگی بچانے والے طبی آلات پر انحصار کرنے والے مریضوں کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی گئی۔

ڈاکٹرز اور طبی عملہ پوری رات محدود وسائل اور مشکل حالات میں مریضوں کی جانیں بچانے کی کوششوں میں مصروف رہا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران دو مریض آئی سی یو میں جاں بحق ہوئے تاہم بجلی کی بندش سے ہونے والی ممکنہ اموات کی اصل تعداد سامنے نہیں آسکی۔

اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ تنیو نے بجلی کی بندش کے دوران جنریٹرز نہ چلنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رات کے وقت جنریٹر چلانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم سافٹ ویئر میں تکنیکی خرابی کے باعث جنریٹر فعال نہیں ہوسکے۔

انہوں نے بجلی کی بندش کے باعث مریضوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

صوبے کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں بجلی کی فراہمی کے متبادل ہنگامی نظام کا پوری رات ناکارہ رہنا اسپتال انتظامیہ کی منصوبہ بندی، مشینری کی دیکھ بھال اور مریضوں کی جانوں کے تحفظ کے انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے کہ اگر کسی بڑے سرکاری اسپتال میں بجلی کی بندش کے دوران جنریٹر بھی کام نہ کرسکیں تو انتہائی نگہداشت میں زیر علاج اور مصنوعی نظام تنفس پر زندہ مریضوں کی زندگیوں کا تحفظ کیسے ممکن بنایا جائے گا؟

بشکریہ روزنامہ جنگ