برطرف امریکی جنرل کا ایران و یوکرین سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو دینے کا اعتراف
امریکی فوج کے برطرف لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا نے ایران اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسیوں کی خفیہ معلومات 2 صحافیوں کو افشا کرنے کا اعتراف کر لیا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی اندرونی تحقیقات کے دوران بریٹ سلویا نے ویڈیو بیان میں خفیہ معلومات لیک کرنے کا اعتراف کیا۔
بتایا گیا ہے کہ وہ اس سے قبل 4 بار جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ میں ناکام ہوئے تھے، بعد ازاں امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے 3 ستارہ جنرل کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
امریکی فوج کے سینئر جنرل کی برطرفی کی وجہ سامنے آ گئی
تحقیقاتی حکام کے مطابق بریٹ سلویا جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ڈائریکٹوریٹ برائے حکمتِ عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی میں خدمات انجام دے چکے تھے اور انہوں نے میڈیا کو غیر مجاز طور پر خفیہ معلومات فراہم کیں۔
ایکسیوس کے مطابق معلومات افشا کرنے کا سلسلہ جون 2025ء سے شروع ہوا، جس میں سگنل ایپ کے ذریعے خفیہ پیغامات بھیجنے کے علاوہ ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن کے ایک ڈائنر میں صحافی سے ملاقات بھی شامل تھی۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ بریٹ سلویا نے ایک خفیہ دستاویز کے ہاتھ سے لکھے گئے نوٹس بھی استعمال کیے، جن کے ذریعے یوکرین کو امریکی فوجی امداد سے متعلق تفصیلات صحافیوں تک پہنچائی گئیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے جمعرات کو بتایا تھا کہ معاملہ ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے محکمۂ انصاف کو بھجوا دیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون کے چیف پلانر کو برطرف کر دیا
شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ خفیہ معلومات کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں اور انہیں ذاتی، سیاسی یا پیشہ ورانہ فائدے کے لیے افشا کرنا ان افراد کے اعتماد سے غداری ہے جنہیں ان معلومات کی حفاظت کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو تلاش کرنے کا وعدہ محض بیان نہیں تھا، پینٹاگون نے انہیں تلاش کرنے کا عزم کیا تھا اور وہ اس پر قائم ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ