جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا: 41 ہزار فٹ کی بلندی پر پراسرار ’ٹک ٹیک‘ یو ایف او دیکھے جانے کا دعویٰ، ریڈار بھی سراغ لگانے میں ناکام

تازہ ترین

امریکی ریاست اوہائیو کے قریب نجی طیارہ اڑانے والے 2 پائلٹس نے دورانِ پرواز ایک پراسرار شے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جو بڑے کیپسول یا ٹک ٹیک جیسی دکھائی دے رہی تھی، تاہم ایئر ٹریفک کنٹرول کے ریڈار پر اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

واقعہ 16 اگست کو اوہائیو کے شہر ٹفن کے قریب پیش آیا، جب طیارہ 41 ہزار فٹ کی بلندی پر 1 بڑے طوفانی بادل کے قریب سے گزر رہا تھا۔

نیشنل یو ایف او رپورٹنگ سینٹر کی جانب سے 26 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے طوفانی بادلوں کے سامنے اچانک ایک نامعلوم شے نمودار ہوتے دیکھی۔

پلوٹو سے آگے نئے بونے سیارے کی دریافت، جسامت بھی غیر معمولی بڑی ہونے کا امکان

پائلٹس نے اس شے کو عمودی حالت میں موجود چاندی جیسی چمکدار دھاتی سلنڈر نما چیز قرار دیا، جس کی سطح انتہائی چمکدار تھی، جبکہ اس پر نہ کوئی پر دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی کوئی چمکتی ہوئی لائٹس موجود تھیں۔

ایک پائلٹ کے اندازے کے مطابق اس شے کی اونچائی کم از کم 30 فٹ تھی اور وہ ان کے طیارے سے تقریباً 2 میل کے فاصلے سے گزری۔

ممکنہ تصادم کے خدشے کے پیشِ نظر پائلٹس نے کلیولینڈ ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کر کے قریبی فضائی حدود میں کسی دوسرے طیارے یا موسمی غبارے کی موجودگی سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

کنٹرول ٹاور کے مطابق ریڈار پر ایسی کوئی شے موجود نہیں تھی، جبکہ طیارے کا تصادم سے خبردار کرنے والا نظام بھی کسی غیر معمولی چیز کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔

یہ مشاہدہ تقریباً 2 منٹ تک جاری رہا، اس دوران ایک پائلٹ نے اپنے آئی فون سے اس پراسرار شے کی تصویر بھی بنا لی۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والے یو ایف او ماہر بین ہینسن نے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت فضائی کنٹرول کی ریکارڈنگ اور ریڈار سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں۔

نظامِ شمسی کے سیاروں کے کتنے چاند ہیں؟ تعداد جان کر حیران رہ جائیں گے

تحقیقاتی ٹیم نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ کوئی موسمی غبارہ ہوسکتا ہے، تاہم اس سے مطابقت رکھنے والے غبارے کی پرواز یا روانگی کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

پائلٹ نے بھی اس امکان پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا کوئی غبارہ شدید طوفانی موسم میں برقرار رہ سکتا تھا، کیونکہ بعد میں اسی پرواز کے دوران طیارے کے انجن پر برف جمنے اور درمیانے درجے کی فضائی بے چینی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ