جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

پاکستان میں فلو کی ویکسین کی کمی نہیں: وفاقی وزیرِ صحت

تازہ ترین

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں فلو کی ویکسین کی کمی نہیں ہے، ہم ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ کریں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فلو کی ویکسین کے 4 برانڈز تھے جن میں سے 2 برانڈز نے قیمت بڑھانے کی بات کی تھی، حکومت نے فلو کی ویکسین کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دی جس پر ان 2 برانڈز نے ویکسین درآمد نہیں کی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت کے بجٹ میں غیر ملکی مدد صرف 3 فیصد ہے اور اس وقت سب سے زیادہ ویکسین کی مد میں مدد آ رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا اپنے استعفے کے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز

انہوں نے کہا کہ 2030ء تک ویکسین مکمل طور پر ہمیں خریدنا پڑے گی اور اس پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالرز کی لاگت آئے گی، ہمیں ابھی سے اس پر بھی کام کرنا ہو گا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ چین نے 98 کروڑ روپے سے اسپتال بنا کر پاکستان کو تحفہ دیا تھا لیکن اسے چلانے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا تھا اور وہاں تمام مشینیں ناکارہ ہو رہی تھیں، اسے اب سرکاری اسپتال کی شکل دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈس اسپتال نے اسے چلانے کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور 182 بیڈز کا اسپتال چلنا شروع ہو گیا ہے جو اب بند نہیں ہو گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نومبر کے آخر میں جو بھی دوا لینے جائے تو موبائل فون ساتھ لے جائے، موبائل ایپ اور بار کوڈ سے دوا کے جعلی یا اصلی ہونے کا پتہ چل جائے گا، اگر دوا جعلی ہو گی تو سرخ نشان آ جائے گا جبکہ سبز نشان آنے پر دوا اصل ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈریپ کو بھی وسیع اختیارات دیے ہیں، اس وقت 26 کروڑ عوام کے لیے صرف 22 ڈرگ انسپکٹرز ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ ہم ملک سے جعلی ادویات کا خاتمہ کریں گے، 75 ہزار ادویات کا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ