جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

پاکستان میں ہر 2 لاکھ 45 ہزار ذہنی مریضوں کیلئے صرف 1 ماہر نفسیات ہونے کا انکشاف

تازہ ترین

قومی اسمبلی میں وزارتِ صحت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 20 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف 1050 ہے، یعنی آبادی کے تناسب سے ہر 2 لاکھ 45 ہزار 400 افراد کے لیے صرف ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔

پاکستان ہیلتھ ورک فورس سروے 2026ء کے مطابق پنجاب میں 406، سندھ میں 228، خیبر پختون خوا میں 122 اور بلوچستان میں 44 ماہرینِ نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وزارتِ صحت کے مطابق 2023ء تک اسلام آباد میں ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔

ذہنی صحت: ایک خاموش بحران، خاموشی میں طوفان

قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 3900 ہے، ان میں سے سندھ کے 1915 اور پنجاب کے 1765 مریض شامل ہیں جبکہ اس مرض کے خیبر پختون خوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں 4 اور گلگت بلتستان میں ایک مریض رجسٹرڈ ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد 90 لاکھ جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 30 لاکھ 86 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دسویں نمبر پر ہے جبکہ ملک میں ہر سال 48 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔

ایوان کو بتایا گیا کہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے وزیرِ اعظم پروگرام کے لیے جولائی 2024ء سے 2027ء تک 67 ارب 77 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، پروگرام کے مجموعی اخراجات میں وفاقی حکومت 51 فیصد جبکہ صوبے 49 فیصد حصہ ادا کریں گے۔

دوسری جانب وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی اجازت نہ ملنے کے باعث کینسر کی متعدد ادویات مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ