مولانا صاحب کی تقریر میں بعض الفاظ ادا نہ ہوتے تو بہتر تھا: بیرسٹر گوہر
بیرسٹر گوہر اور مولانا فضل الرحمٰن—فائل فوٹوز
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مولانا صاحب کی تقریر میں بعض الفاظ ادا نہ ہوتے تو بہتر تھا، ان کی تقریر کے جواب میں جس طرح حملے کیے گئے وہ بھی نامناسب ہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرونی انتشار کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، اندرونی انتشار ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ملک میں تناؤ بہت حد تک پہنچ چکا ہے، کشیدگی مزید نہیں بڑھنی چاہیے۔
متنازع قانون سازی سے گریز کیا جائے، جلد بازی میں مزید بحران پیدا ہو سکتا ہے: بیرسٹر گوہر
انہوں نے کہا کہ ہم ریڈ لائن کراس کرنے والے نہیں، ہمارا مؤقف ہے پاکستان پہلے اور ریاست پہلے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی قیادت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات غیر جانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ