beauty asian vnam north vancouver farnham thai chunby girl average height of a female seeking true love good thai girl dating

بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

واجد شمس الحسن کی وفات: ‘میاں اب لگتا ہے کہ ہماری شام بھی ڈھلنے والی ہے’

واجد شمس الحسن: صحافی اور لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں سابق سفیر وفات پاگئے

  • جاوید سومرو
  • بی بی سی اردو، لندن

واجد شمس الحسن

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشن

2008: واجد شمس الحسن بطور سفیر اپنے دوسرے دور میں ملکہ الزبیتھ دوئم سے ملاقات کرتے ہوئے

واجد شمس الحسن صاحب، یا ہمارے واجد بھائی، ایک بڑی عمر کے بچے تھے۔ بچوں جیسے شرارتی اور بڑوں جیسے مدبر۔ طلبا تحریکوں سے سرگرمیوں کا آغاز کر کے، صحافت کی باریکیوں میں الجھتے، سیاست کے پیچ و خم عبور کر کے، سفارتکاری کو اپنا آخری مسکن بنایا۔ تاہم لکھنا اور اپنے خیالات کا برملا اظہار کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔

منگل کی صبح جب ان کی وفات کی خبر ملی تو ایک جھٹکا سا لگا۔ واجد بھائی علیل تو خاصے عرصے سے تھے اور دوستوں میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش بھی رہتی تھی لیکن پھر بھی ان کا چلے جانا دل اداس کر گیا ہے۔

لندن میں ان کے ساتھ خاصے عرصے سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کی علالت کے باوجود ان کا مختلف پروگراموں میں شرکت کرنا اور ہر موضوع پر تازہ ترین معلومات رکھنا مجھے حیران کر دیتا تھا۔

نوے کی دہائی کے شروع میں جب میں نے پاکستان کے انگریزی اخبار دی نیوز میں ایک رپورٹر کے طور پر کام شروع کیا تو مجھے پہلی مرتبہ واجد بھائی سے ملاقات کا موقع ملا۔ وہ ان دنوں پاکستان پریس ٹرسٹ کے چیئرمن تھے اور حال میں ہی جنگ گروپ کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز کی ایڈیٹرشپ چھوڑی تھی۔ پاکستان کے نامور صحافی ظفر عباس اور کامران خان ان کی ادارت میں کام کر چکے تھے۔ ہمارے سٹی ایڈیٹر، پاکستان میں اپنے وقت کے معروف صحافی، اقبال جعفری نے مجھے ان سے ملوایا۔ دونوں میں بے تکلف گفتگو ہورہی تھی اور میں خاموشی سے ان کی گفتگو سے محظوظ ہو رہا تھا۔اچانک واجد صاحب کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی اور مجھ سے کہا ‘میاں اقبال کی باتوں میں مت آنا کبھی، برباد کردے گا’۔ میں مسکرا دیا۔

واجد شمس الحسن کے والد نواب شمس الحسن، بانی پاکستان، محمد علی جناح کے ساتھی رہے تھے جبکہ واجد بھائی خود سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور حال میں بلاول بھٹو زرداری کے قریبی ساتھیوں میں بھی شامل تھے۔

واجد بھائی 42 برس تک صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے اور ڈیلی نیوز اور جریدے ‘میگ’ کے علاوہ متعدد دیگر اخبارات اور جرائد کے مدیر بھی رہے۔

واجد شمس الحسن

،تصویر کا ذریعہLEON NEAL

،تصویر کا کیپشن

2010 میں جب سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا اس وقت واجد شمس الحسن ہی پاکستان کے سفیر تھے

کئی مرتبہ میری ان کے ساتھ ملاقات بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہی ہوئی تھی۔ بی بی واجد بھائی کی ان کی پارٹی اور ملک کے لیے خدمات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے زمانے میں، جب بینظیر بھٹو صاحبہ جلا وطن تھیں تو واجد شمس الحسن یورپ میں ان کے خاص نمائندے کے طور پر کام کرتے تھے۔ دو ہزار سات میں سابق وزرا اعظم بی نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان جو تاریخی میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے اس کی تحریر میں بھی واجد بھائی کا کلیدی کردار رہا۔

واجد شمس الحسن نے 1962 میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور جنگ گروپ جوائن کیا۔ 1968 میں انہیں برطانیہ میں کامن ویلتھ پریس یونین سکالرشپ ملا جس کے تحت انہوں نے ایک برس تک برطانیہ کے معروف اداروں میں تربیت حاصل کی۔ واپس آنے کے بعد 1969 میں واجد بھائی جنگ گروپ کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز کے ایڈیٹر بن گئے۔ واجد شمس الحسن جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور نظریاتی طور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہمیشہ قریب رہے تھے۔

1972 میں واجد بھائی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس سرکاری وفد کا حصہ تھے جس نے شملہ معاہدے کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ وہ پاکستان کی ایک چلتی پھرتی سیاسی تاریخ تھے۔ ہمیں صحافت کے دوران جب بھی حقائق اور تاریخوں کی تصدیق کرنا ہوتی تھی، ہم پورے اعتماد کے ساتھ ان سے رابطہ کرتے تھے۔

1988 میں جب پارٹی مارشل لا کے بعد، پہلی مرتبہ حکومت میں آئی تو انہوں نے 1989 میں جنگ گروپ کو الوداع کہا اور ان کو پریس ٹرسٹ آف پاکستان کا چیئرمن بنا دیا گیا۔ تین برس تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ 1993 میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت آنے کے بعد، واجد صاحب کو 1994 میں پہلی مرتبہ برطانیہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا لیکن 1996 میں وہ اپنے عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔

بی بی کے قتل کے بعد، جب عوامی ہمدری کی لہر پر آصف علی زرداری کی قیادت میں دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو کچھ عرصے بعد واجد شمس الحسن کو دوبارہ برطانیہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا۔ وہ دو ہزار تیرہ تک پاکستان کے برطانیہ میں سفیر رہے۔ اس دوران ایک وقت ایسا آیا جب انہیں بہت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوا یہ کہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے ایک مقدمے کی بازگشت کے دوران انہیں جنیوا سے ایسی دستاویزات کے باکسز کا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا جو کہ مبینہ طور پر آصف زرداری کے خلاف ثبوت فراہم کر سکتی تھیں۔ کئی ماہ بعد جب واجد بھائی سے ملاقات ہوئی تو میں نے شرارتاً پوچھا کہ یہ آپ کا کیا سوجھی کہ آپ جنیوا پہنچ گئے؟ تو بڑی معصومیت سے جواب دیا، ‘یار غلطی ہوگئی، اب کیا جان لو گے؟’

اپنے آخری برسوں میں واجد بھائی کو سننے اور یاد رکھنے میں بھی دشواری ہوتی تھی لیکن کورونا کی وبا اور برطانیہ میں لاک ڈاؤن سے قبل ایک دن میں نے فون کیا اور ملاقات کی خواہش کی تو کہنے لگے میاں میں آتا ہوں کل تم سے ملنے۔۔ ہم نے بی بی سی کے دفتر کے سامنے کافی ہاؤس پر کافی پی، سیاست سے لیکر ادب پر باتیں کیں۔ پھر بینظیر بھٹو کی زندگی اور ان کے ساتھ گزارا وقت یاد آیا۔ ہم دونوں کچھ افسردہ ہوئے۔ انہوں نے اپنا سگار سلگایا اور ایک لمبا کش لےکر بولے، ‘میاں اب لگتا ہے کہ ہماری شام بھی ڈھلنے والی ہے۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.