معاشی ’گیم چینجر‘ یا قرض کا جال: پاکستان میں سی پیک سمیت جنوبی ایشیا میں چینی سرمایہ کاری کا مستقبل کیا ہے؟

سی پیک

،تصویر کا ذریعہAFP

  • مصنف, سرنجنا تیواری
  • عہدہ, بی بی سی نیوز، سنگاپور

خنجراب پاکستان کے شمال میں بلند چوٹیوں، شفاف گلیشیئرز اور سرسبز وادیوں پر مشتمل خشک اور سرد خطہ ہے جہاں دنیا کی چند سب سے بلند چوٹیاں موجود ہیں۔

اسی خطے سے چین کو پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع بندرگاہ گوادر سے جوڑنے والی نہایت اہم سڑک گزرتی ہے۔ شاہراہ ریشم صدیوں سے تجارت اور سفر کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے تاہم گزشتہ 10 سال میں اس سڑک کو چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی آر آئی) منصوبے کے تحت کافی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کے منصوبے کے تحت اس قدیم راستے کی تعمیر نو جنوبی ایشیا کے غریب ممالک میں متعدد ٹرانسپورٹ منصوبوں سے جڑی تھی جس کے تحت چین نئے اتحادی بنا سکتا تھا۔

مغربی دنیا چین کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو شک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے جسے خدشہ تھا کہ چین بندرگاہوں کا ایک ایسا سلسلہ قائم کر لے گا جو جنوبی چین سمندر، بحیرۂ عرب کے ذریعے اس کی بحریہ کو افریقہ تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ تاہم چین ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتا رہا ہے۔

اب تک تقریباً 145 ممالک، جن میں دنیا کی 75 فیصد آبادی بستی ہے، چین کے منصوبے میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا پراجیکٹ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ ہے جس کے تحت 60 ارب ڈالر کے ابتدائی تخمینے سے سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائن کا ایک جال بننا تھا۔

حتمی منصوبہ یہ تھا کہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس پائپ لائن مغربی چین تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گی اور یوں طویل سمندری راستے کے مقابلے میں وقت کی بچت ہو گی۔

پاکستان کے اس خطے کی ترقی چین کے لیے فائدہ مند ہوتی۔ ایک جانب اسے افغانستان کی معدنیات تک رسائی حاصل ہوتی تو دوسری جانب انڈیا کے خلاف پاکستان کی حمایت حاصل ہوتی۔

کرپشن اور تاخیر

اگرچہ سی پیک نامی منصوبے پر کافی کام ہوا ہے تاہم بی آر آئی کے دیگر منصوبوں کی طرح کرپشن، التوا، ماحولیاتی اور سکیورٹی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ اب تک خالی پڑی ہے جہاں سے سامان لانے اور لے جانے کے آثار نظر نہیں آتے۔

ان مسائل کا تعلق پاکستان کے اپنے معاشی مسائل سے بھی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا، مہنگائی عروج پر تھی، ترقی کی رفتار کم اور روپیہ کافی کمزور ہو چکا تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب فیکٹریاں مہنگی بجلی اور خام مال کی وجہ سے بند ہو رہی تھیں اور ٹیکسٹائل مزدوروں کو فارغ کیا جا رہا تھا، حکام سی پیک منصوبوں کے لیے درکار درآمدات کی ادائیگیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آخرکار آئی ایم ایف نے جولائی میں تین ارب ڈالر کے ایک امدادی پیکج کی منظوری دی۔ لیکن پاکستان کا بیرونی قرضہ اب 300 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جس کا ایک تہائی حصہ چین کو واجب الادا ہے۔ اس مشکل کا سامنا کرنے والا پاکستان واحد ملک نہیں۔

بی آر آئی منصوبے کے آغاز کے بعد سے چین بہت سے ترقی پذیر ممالک کو قرض فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک بھی ایسی ہی مشکلات میں گھرے ہیں۔

دلی کے سینٹر فار سوشل اینڈ اکنامک پراگرس سے تعلق رکھنے والے کونسٹینٹائنو زیویئر کہتے ہیں کہ ’نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش نے بی آر آئی کو ایک ایسے موقعے کے طور پر دیکھا جس کے ذریعے وہ اپنی میعشت کو جدت دے سکتے تھے۔‘

’تاہم آج نیپال میں چین نے سیاسی معاملات میں مداخلت شروع کر دی ہے، سری لنکا میں سرمایہ کاری منصوبوں کو طویل المدتی لیز معاہدوں میں بدل دیا ہے جو خودمختاری پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں اور بنگلہ دیش میں واضح ہو رہا ہے کہ چین کی گرانٹس دراصل مہنگے قرضے تھے۔‘

گلوبل ساؤتھ اور موقع پرستی

ایک تحقیق کے مطابق چین نے 2008 سے 2021 کے درمیان 22 ممالک کو 240 ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔

اس تحقیق پر کام کرنے والی کارمین ریئن ہارٹ عالمی بینک کی سابق چیف اکانمسٹ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بیجنگ اپنے بینکوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی لیے وہ بین الاقوامی طور پر قرضہ فراہم کرنے کے پرخطر کاروبار میں گھسا ہے۔‘

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

ڈرامہ کوئین

ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

چین شازونادر ہی قرضہ معاف کرتا ہے اور کس کو کتنا قرضہ کن شرائط پر دیا گیا، یہ تفصیلات اکثر خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک سے زیادہ بین الاقوامی قرضہ دینے والا ہو تو قرض کی ادائیگی میں ردوبدل رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سری لنکا جیسے ممالک میں، جہاں زرمبادلہ ذخائر میں کمی کے بعد سماجی اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا، قرضے پر سود کی ادائیگی کی وجہ سے معاشی ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور قرض ادا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یوں ملک میں پیسے کی کمی کی وجہ سے روزگار متاثر ہوتے ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اہم درآمدات جیسا کہ خوراک اور ایندھن تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔

چین نے ایسے مملک کو ایمرجنسی قرضہ فراہم کیا ہے اور قرض کی ادائیگی کی تاریخ میں بھی التوا کی سہولت دی ہے۔

تاہم چین پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہ ’قرض کے جال میں پھانسنے کی سفارت کاری‘ کر رہا ہے۔ اس تصور کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشہور کیا تھا جس کے مطابق ایسے ممالک قرضہ اتارنے کے لیے ملکی اثاثے گروی رکھوا دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کو ایسے بیرونی قرضہ جات کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس کے بینک مقامی ریئل اسٹیٹ کمپنیوں کے قرضوں کی وجہ سے پہلے ہی خطرات کا شکار ہیں۔

ایڈ ڈیٹا کمپنی کی اینا ہیروگاشی کا کہنا ہے کہ ’چین نے ان ممالک کے معاشی مسائل میں کردار ادا ضرور کیا لیکن چینی قرضہ واحد مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق قرضوں میں شفافیت کا مسئلہ بھی ضرور ہے لیکن جیسے سری لنکا میں دیکھا گیا، چین نے قرضوں کی ادائیگی پر سمجھوتہ کیا۔‘

سری لنکا نے قرضوں کی ادائیگی کو ازسر نو طے کرنے کے لیے چین اور انڈیا سے معاہدہ کیا تاکہ آئی ایم ایف سے تقریبا تین بلین ڈالر کا پیکج حاصل کیا جا سکے۔

پھر سوال یہ ہے کہ چین نے اتنی بری معاشی کارکردگی کے حامل ممالک سے خود کو کیوں جوڑا؟ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر چین واقعی پاکستان کی مدد کرنا چاہتا تھا تو گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے کراچی بندرگاہ کو وسیع کیا جا سکتا تھا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز میں چین پروگرام کی سربراہ میا نوئوینز کا کہنا ہے کہ چینی سرمایہ کاری میں موقع پرستی اور سیاست کا عنصر واضح ہے۔

ان کے مطابق ’چین خود کو گلوبل ساؤتھ کا سربراہ دکھانا چاہتا ہے، ایک ایسا ملک جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات کو سمجھتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔‘

چینی معاہدے کم شرائط اور کم وقت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے وقت بھی زیادہ لیتے ہیں اور مدد کے بدلے سماجی اور معاشی شرائط بھی عائد کرتے ہیں۔

اینا ہیروگاشی کا کہنا ہے کہ ’گلوبل ساؤتھ میں کئی رہنماوں کو انتخابات کا سامنا ہے اور وہ ایسے منصوبوں کے خواہشمند ہوتے ہیں جو کم سے کم شرائط کے ساتھ جلد سے جلد مکمل کیے جا سکیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مستقبل کیسا ہے؟

کامیابیوں اور ناکامیوں کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی آر آئی کے تحت جو منصوبے بنے، وہ شاید بصورت دیگر نہیں بن سکتے تھے اور ان کی مدد سے بہت سے ممالک میں معاشی ترقی ممکن ہو سکے گی۔

کونسٹینٹائنو زیویئر کا کہنا ہے کہ چین کے بی آر آئی منصوبے نے جنوبی ایشیا میں ترقی کی بنیاد رکھی ہے جس کی وجہ سے انڈیا اور دیگر ممالک متبادل دھونڈنے پر مجبور ہوئے۔ ’یہ خطہ اب معاشی مقابلے کے لیے کھلا میدان ہے جہاں چین اور انڈیا کے علاوہ جاپان اور یورپی یونین جیسے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔‘

گذشتہ سال جی سیون نے کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں سرمایہ کاری بڑھانے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ رواں ماہ جی ٹؤنٹی اجلاس میں انڈیا-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان کیا گیا جس کے ذریعے ایک تجارتی راہداری انڈیا کو متعدد مشرق وسطی ممالک اور یورپ سے جوڑے گی۔ امریکی صدر جو بائیڈن بھی اس منصوبے میں شامل ہیں جن کے مطابق ایسی اور تجارتی راہداریاں بھی مستقبل میں سامنے آئیں گی۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہAFP

کونسٹینٹائنو زیویئر کے مطابق چین اب جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک اہم معاشی اور سیاسی کھلاڑی بن چکا ہے۔

ایسے میں چین کی سست ہوتی معیشت عالمی طور پر ایک نئی تبدیلی کا مظہر ثابت ہو سکتی ہے۔

کونسٹینٹائنو زیویئر کا کہنا ہے کہ چین اندرونی کھپت کے معاشی ماڈل پر منتقل ہو رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کے لیے اس کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے، اسی لیے خطے کے ممالک انڈیا، جاپان، امریکہ، یورپی یونین اور دیگر روایتی شراکت داروں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

’یہ سری لنکا میں واضح ہو چکا ہے جہاں چین ملک کی معاشی مشکلات کے بعد زیادہ فعال نظر نہیں آیا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ