بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

’ضرورت پڑی تو ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت پر غور کرسکتا ہے‘

جوہری معاہدے کی بحالی پر مذاکرات: ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ’ضرورت پڑی تو امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت پر غور ہوسکتا ہے‘

ایران، امریکہ

،تصویر کا ذریعہTASNIM

امریکہ کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی پر بات کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللهیان نے پیر کو کہا کہ ’ضرورت پڑنے پر‘ امریکہ سے براہ راست بات چیت پر غور کیا جاسکتا ہے۔

اس خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی مسلسل براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن ہم اب تک اپنے نتیجے پر یہاں نہیں پہنچے۔‘

’ایران اور اس کے پڑوسی‘ کے عنوان پر اس تقریب کے دوران حسین امیر عبداللهیان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کے پڑوسیوں کے ذریعے براہ راست بات چیت کا پیغام بھیجا ہے۔

جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات جاری ہیں۔

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ مگر اب امریکہ ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہے۔

ایران کے وزیر خراجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ایران ’دشمنوں‘ کے ساتھ مذاکرات کر سکتا ہے لیکن ان کے مطالبات پر سر نہیں جھکائے گا۔ خامنہ ای نے اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست بات چیت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نیٹورک کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانیوں کو مذاکرات کی تفصیلات کا بتایا جائے گا جب مخصوص نتائج آئیں گے اور ’مجھے امید ہے کہ ہم اس کے قریب پہنچ رہے ہیں۔‘

پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی اور فارن پالیسی کمیٹی کے ترجمان محمود عباس‌ زاده مشکینی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر واشنگٹن نیک نیتی کا مظاہرہ کرے گا تو ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کرے گا۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ‘ہم براہ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں‘

دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’ہم براہ راست ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران سے براہ راست روابط زیادہ کارگر ہوں گے جن میں برِکس اتحاد کے مذاکرات اور دیگر مسائل پر بات ہوسکے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آمنے سامنے ملاقاتیں بہتر رابطوں میں کارآمد ثابت ہوں گی۔۔۔ ایران کے جوہری پروگرام کی پیداواری رفتار کی وجہ سے مواقع بہت کم ہیں۔‘

ویانا میں روسی سفیر میخائل اولینو نے، جو ان مذاکرات کا حصہ ہیں، ایران کے وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور باہمی بات چیت مددگار ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

اطلاعات کے مطابق ویانا کے مذاکرات میں ایران اور امریکہ براہ راست موجود نہیں ہیں۔ دونوں فریقین اپنی تجاویز چین، روس اور تین یورپی ممالک کے ذریعے پیش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ حسین امیر عبداللهیان پر گذشتہ دنوں تنقید کی جا رہی تھی کیونکہ روس آمد پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا خیر مقدم مبینہ طور پر سفارتی پروٹوکول کے ساتھ نہیں کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق روس نے ایران کے ساتھ طویل مدتی تعاون کے معاہدے کی توسیع نہیں کی ہے۔

’قیدیوں کا تبادلہ ویانا مذاکرات سے نہیں جڑا‘

ادھر ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کر رہا ہے۔ انھوں نے اس خیال کو مسترد کیا ہے کہ اس کا تعلق جوہری معاہدے پر مذاکرات سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دو الگ راستے ہیں۔ لیکن اگر مخالف پارٹی چاہے تو کم وقت میں طویل مدتی اور دیر پا معاہدہ کیا جاسکتا ہے۔‘

علی خامنہ ای

،تصویر کا ذریعہKHAMENEI.IR

دوسری طرف امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی قیدیوں کا مستقبل جوہری معاہدے کی بحالی سے نہیں جڑا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی خصوصی نمائندہ برائے ایران روبرٹ میلی نے کہا تھا کہ جس وقت چار امریکی شہری قیدیوں کو ایران نے یرغمال بنا رکھا ہے اس دوران جوہری معاہدے کو بحال کرنا مشکل ہوگا۔

سابق امریکی سفارتکار بیری روزن نے، جنھیں 1979 میں ایران میں 444 روز تک یرغمال بنا کر رکھا گیا تھا، گذشتہ ہفتے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے۔

روبرٹ مالی سے ملاقات کے بعد روزن نے اعلان کیا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال پانچ روز بعد ختم کردیں گے مگر یہ مہم جاری رہے گی۔

ایران نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر لچک دکھانے کو تیار ہے کیونکہ یہ انسانی حقوق سے متعلق ہے۔

خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکہ اپنے معاہدے پر قائم رہتا ہے تو انسانی حقوق کے مسئلے کو قلیل مدت میں نمٹایا جاسکتا ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.