غزہ جنگ: خان یونس میں اب تک کی ’سب سے شدید‘ بمباری، جنگ بندی کا موقع ’ضائع کرنے پر‘ اردوغان کی تنقید

تازہ حملوں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

تازہ حملوں میں زخمی ایک بچی کو خان یونس کے النصر ہسپتال لایا جا رہا ہے

اسرائیل نے غزہ کے جنوبی شہر خان یونس پر شدید فضائی حملے کیے ہیں اور رہائشیوں نے اسے اب تک کی سب سے بھاری بمباری قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے شہر کے مشرقی علاقوں کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مزید جنوب کی طرف نکل جائیں۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس کے کچھ رہنما شہر میں موجود ہیں، جہاں بہت سے شہری شمالی علاقوں سے فرار ہونے کے بعد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی تازہ ترین لہر میں کم از کم 193 افراد مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی افواج آئی ڈی ایف نے جمعے کو غزہ میں حماس کے خلاف دوبارہ اپنی کارروائی شروع کیں۔ اس سے قبل اس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے جواب میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اسرائیل کے خلاف حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

موسم سرما کی بارش نے پناہ گزینوں کی مشکلات میں دو چند اضافہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

موسم سرما کی بارش نے پناہ گزینوں کی مشکلات میں دو چند اضافہ کر دیا ہے

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 15,200 سے تجاوز کر گئی ہے۔

جمعے کو عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے نئے آپریشن کے پہلے دن حماس کے 400 سے زیادہ ‘دہشت گردی کے اہداف’ کو نشانہ بنا گیا ہے۔

بمباری دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ سے اسرائیل پر بھی باقاعدگی سے راکٹ داغے جا رہے ہیں۔ اس جوابی کارروائی میں سنیچر کی شام تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس حملے کے بعد اسرائیل کی ایمبولینس سروس نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں تل ابیب کے بالکل جنوب میں واقع شہر ہولون میں ایک 22 سالہ شخص کے سر پر ’ہلکی چوٹ‘ آئی ہے جس کا انھوں نے علاج کیا ہے۔

سنیچر کی شام ایک بریفنگ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ‘تمام اہداف حاصل کرنے’ تک اسرائیلی فوجی آپریشن جاری رکھنے کا عہد کیا۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ‘ایک سخت جنگ ہمارے سامنے ہے۔’

رجب طیب اردوغان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

رجب طیب اردوغان

ترکی کے صدر کا سخت مؤقف

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ حماس کے خاتمے کا منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔

ترکی کے نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق اردوغان نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی میں وقفے کے بعد غزہ میں امن کا موقع اسرائیل کے ’نہ سمجھوتہ کرنے والے رویے‘ کی وجہ سے ضائع ہو گیا ہے۔

این ٹی وی کے مطابق اردوغان نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم انسانی بنیادوں پر (جنگ میں) توقف کے بجائے مستقل جنگ بندی کے حق میں ہیں۔۔۔ یہاں امن کا ایک موقع تھا اور بدقسمتی سے ہم نے اسرائیل کے نہ سمجھوتہ کرنے والے رویے کی وجہ سے موقع بھی کھو دیا ہے۔‘

خیال رہے کہ 24 نومبر کو شروع ہونے والی جنگ بندی میں دو بار توسیع کی گئی تھی۔ سات دنوں کی جنگ بندی کے دوران خواتین، بچوں اور غیر ملکی یرغمالیوں کے ساتھ ساتھ متعدد فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا لیکن ثالث مزید رہائی یا جنگ میں وقفے کا کوئی فارمولا تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق انھوں نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی پر دبئی میں ہونے والی سی او پی 28 کے اجلاس سے واپسی پر کہا کہ ترکی غزہ کی پٹی میں نسل کشی پر اسرائیل کو سزا دینے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں ہر ممکن کوشش کرے گا۔

انھوں نے کہا: ‘ہم اپنی پوری کوشش کریں گے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (اسرائیل) کو اس نسل کشی کے لیے سزا دے۔ یہ نہ صرف (اسرائیلی وزیر اعظم) نتن یاہو کی حکومت پر بلکہ ان ممالک پر بھی سیاہ دھبہ ہے جو اس کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ اور وہ بھی آنے والے برسوں تک اپنی خاموشی کی قیمت ادا کریں گے۔’

ادھر خان یونس اور مصر کی سرحد پر واقع شہر رفح کچھ ایسے مقامات تھے جنھیں اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے کا اگلا مرحلہ جنوبی غزہ پر مرکوز ہونے کا امکان ہے۔

نقل مکانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہسپتالوں کی راہداریوں میں خون

جنگ بندی سے پہلے کے مرحلے میں فلسطینیوں کو شمالی علاقوں کو خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور لاکھوں شہریوں نے وہاں سے فرار اختیار کیا تھا اور جنوبی علاقوں میں پناہ لی تھی۔ شمالی غزہ کا علاقہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں اسرائیل کا بنیادی ہدف تھا۔

آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر نقشے شائع کیے جس میں بتایا گیا کہ شہریوں کو کن علاقوں سے نکل جانا چاہیے، خان یونس کے مشرق کے علاقوں کے لوگوں کو مزید جنوب میں رفح میں پناہ گاہوں کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے زمینی حملے کے آغاز کا اشارہ ملتا ہے۔

کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد فلسطینی علاقے غزہ میں محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے والے ہسپتال جانی نقصان سے بھر گئے ہیں یہاں تک کہ خان یونس کے ناصر ہسپتال میں کچھ مریضوں کا فرش پر علاج کیا جا رہا ہے۔

چار بچوں کی ماں سمیرا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بمباری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ‘خوفناک ترین رات تھی۔’ انھوں نے کہا کہ ‘پچھلے چھ ہفتوں میں جب سے ہم یہاں پہنچے ہیں یہ ان بدترین راتوں میں سے ایک تھی جو ہم نے خان یونس میں گزاری ہیں۔۔۔ ہمیں بہت ڈر ہے کہ وہ خان یونس میں داخل ہو جائیں گے۔’

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر سنیچر کے روز خان یونس میں تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فضائی حملہ دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہسپتال مہلوکین اور زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘راہداریوں میں لفظی طور پر خون بہہ رہا ہے، وہاں مائیں ایک بار پھر اپنے بچوں کو اٹھائے ہوئے ہیں جو بظاہر مردہ لگتے ہیں۔’

خیراتی ادارے فلسطینی ہلال احمر نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کے روز مصر سے 100 امدادی لاریوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے لیکن جمعہ کے روز علاقے میں انسانی بنیادوں پر کوئی سامان نہیں بھیجا گیا۔

قطر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

قطر میں ہونے والے امن مذاکرات بند ہو گئے ہیں

جنگ بندی کے مذاکرات بند

ایک اور عارضی جنگ بندی کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے اور 7 اکتوبر کو اغوا کیے گئے لوگوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت سنیچر کے روز ختم ہو گئی۔

مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں، کوئی رابطہ یا کسی نئے جنگ بندی کے منصوبے تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

سنیچر کے روز اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ موساد انٹیلی جنس سروس کے اپنے مذاکرات کاروں کو قطر میں جاری مذاکرات سے نکال رہا ہے۔ یہ ایجنٹ ‘مذاکرات میں تعطل’ کے بعد ثالثی کا کام کررہے ہیں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العروری نے سنیچر کے روز نیوز چینل الجزیرہ کو بتایا کہ ‘اب کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں’ اور جنگ ختم ہونے تک اسرائیل کے ساتھ مزید قیدیوں کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے مصر کے صدر سے ملاقات میں کہا کہ ‘امریکہ کسی بھی صورت میں غزہ یا مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، غزہ کا محاصرہ کرنے یا سرحدوں کو دوبارہ طے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔’

لیکن انھوں نے امریکی موقف کو بھی دہرایا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس سی او پی 28 کے موقع پر دبئی میں اپنی ملاقات کے دوران انھوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے کہا کہ امن کی کوششیں صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہیں جب ‘فلسطینی عوام کے لیے ایک واضح سیاسی افق کے ساتھ ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے زیر قیادت ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف قدم بڑھایا جائے۔’

سنیچر کے روز اپنی مسٹر نتن یاہو نے خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھ کچھ غیر ملکی یرغمالیوں پر مبنی 110 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تعریف کی۔

انھوں نے ان کے لیے ‘جہنم سے واپسی پر خوش آمدید’ کہا۔

ان یرغمالیوں کو 240 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کیا گیا ہے۔ ان رہا کیے جانے فلسطینیوں میں خواتین اور نوجوان شامل ہیں۔

غزہ میں باقی تقریباً 140 یرغمالیو میں سے زیادہ تر مرد اور فوجی اہلکار ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ