جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء

کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے: جسٹس(ر) عبد المجید ملک

جسٹس(ر) عبد المجید ملک کا کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم سے متعلق کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

پی پی پی انٹرنیشنل کانفرنسز اینڈ سیمینارز فورم (ICSF ) کے زیر اہتمام کشمیر ی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر ’’Kashmir…United, we Stand‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان آن لائن کانفرنس منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں پیپلزپارٹی کےسینئر رہنماؤں اور کارکنوں کےعلاوہ عالمی شہرت یافتہ دانش وروں، صحافیوں، محققین، ٹی وی اینکرز اور دیگراہم سماجی وسیاسی شخصیات نےشرکت کی۔

کانفرنس کی میزبانی معروف فنکار اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ سیف اللّٰہ سیفی اور کمیشن آن اسٹیٹس آف اے جے کے ویمن کی سابق چیئر پرسن، ہیومن رائیٹس ایکٹیوسٹ ماریا اقبال ترانہ اور فہمیدہ بریچہ نے کی۔

دنیا بھر سے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے والے ہزاروں افراد نے کانفرنس کو سوشل میڈیا پر براہ راست دیکھا اور اپنے کمنٹس میں کشمیری شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

تقریب کی صدارت سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس(ر) عبد المجید ملک نے کی جب کہ مہمانانِ خصوصی پی پی پی پارلیمنٹرینز کی صدر و امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر محترمہ شیری رحمان اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ تھے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس(ر) عبد المجید ملک نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، انہوں نے بھارتی حکومت کو واضح طور پر خبردار کیا کہ وہ طاقت کے زعم میں کشمیری عوام کو اپنا محکوم نہیں بنا سکتی، ۔ انہوں نے بھارت میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی، انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں رہنے والےتمام لوگ چاہے وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں، بدھ مت سے تعلق رکھتے ہوں، عیسائی ہوں یا سکھ برادری، ان سب کا جموں و کشمیر پر اتنا ہی حق ہے جتنا میرا، انہوں نے مزید کہا کہ حق خود ارادیت کشمیری قوم کا بنیادی حق ہے۔

مہمان خصوصی سینیٹر شیری رحمان نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف وزری اور کشمیریوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کشمیری عوام کی جدو جہد اور قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، انہوں مودی سرکار کو جدید فاش ازم کی شکل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ہمیں اس ظلم و بربریت کے خلاف مل کر آواز اٹھانی ہوگی۔

جس طرح عالمی سطح پر مودی حکومت کو استثنیٰ ملا ہے اس سے گذشتہ دوسالوں میں یہ وادی دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل بن چکی ہے، لیبر پارٹی کے برطانوی ممبر پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ نے کہا کہ یہ صرف بھارت یا نیو دہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جو برصغیر کی تقسیم سے لے کر آج تک موجود ہے۔

اس موقعے پر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی دیرینہ دوست وکٹوریہ اسخوفیلڈ (Victoria Schofield) نےکہا کہ دنیا میں جہاں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے میں اس کی مذمت کرتی ہوں لیکن اس وقت میں خاص طور سے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے بارے میں بات کروں گی کیوں کہ میں نے اس موضوع پر طویل تحقیاتی کام کیا ہے۔

انسانی حقوق کے معروف علم بردار آئی اے رحمان نے کہا کہ کشمیری عوام جو اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔ لبرل ڈیمو کریٹ لارڈ قربان حسین نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ انھیں خطرہ ہے کہ کشمیری رہنما یاسین ملک پر جو مقدمات بنائے گئے ہیں یا مزید بنائے جانے کی تیاری ہے تو ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو سکتا ہے جو ان سے قبل مقبول بٹ اور افضل گرو کے ساتھ ہوا تھا۔

اس موقعے پر کشمیری ہیرو اور 33سالوں پر مشتمل بھارت کی تہاڑ جیل میں مقید کشمیری نیلسن منڈیلا کا خطاب پانے والے ضمیر کے قیدی سید شبیر احمد شاہ کی صاحب زادی سحر شبیرشاہ نے کہا کہ ہر بیٹی کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ میرے والد میرے ساتھ ہوں، مجھے ان کی ضرورت ہے، میں نے اپنی زندگی کا طویل عرصہ والد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی پایا۔

انہوں نے عالمی برادری سے درد مندانہ اپیل کہ ان کے والدہ کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں، سینئر صحافی، مصنف، انسانی حقوق کے علم بردار اور سیاست کار فرخ سہیل گوئندی نے کہا کہ پاکستان کو کشمیریوں کے حقوق کی خاطر سفارتی اورسیاسی سطح پر بین الاقوامی فورم پر بھرپورحمایت اور مدد کرنی ہوگی۔

سینئر صحافی خالد حمید فارقی نے آئی اے رحمان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حقوق کےحصول کی جدوجہد میں خود اپنی نمائندگی بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔

شیڈو منسٹر خالد محمود نے اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے غیر موزوں ہے، اس ادارے نے کشمیری عوام کی آہ و زاری کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔

سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ شفق محمد نے بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے کشمیری عوام سمیت تمام مظلوموں سے شفقت کی توقع رکھنا ایک بے کار مشق ہوگی۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ اور سینئر سیاست دان بابو سنگھ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدام اٹھائے، راچڈیل کے ڈپٹی میئر عاصم رشید نے کہا کہ ہم مظلوم کشمیری بھائی بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ طے ہونا چاہیے کہ کشمیریوں کا اصل نمائندہ یا ترجمان کون ہے؟ ماریا اقبال ترانہ نے کہا کہ کشمیری عوام کا حق خود ارادیت ہی ان کا مقدر ہوگا، پیپلز پارٹی پنجاب کلچرل ونگ کے صدر ڈاکٹر خالد جاوید جان نے کشمیری عوام کی جدو جہد اور قربانیوں پر انہیں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

کانفرنس کے اختتام پرچیف آرگنائزر پی پی پی آئی سی ایس ایف سید مظاہر بخاری نے تمام شرکا اور دنیا بھر سے کانفرنس کو براہ راست دیکھنے والوں کو اس کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئی سی ایس ایف دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے آواز حق بلند کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتی رہے گی۔

انہوں نے آئی سی ایف کے ٹیم ممبران سیکریٹری جنرل پیپلز کلچرل ونگ، ممبر صوبائی کونسل پی پی پی خیبر پختونخواہ، سید طاہر عباس بخاری، حیدر عباس بخاری، کلدیپ سنگھ، افضال انقلابی، اطہر شریف، ڈاکٹر ضرار یوسف، ملک اجمل، اقبال یوسف، انعام قادری، سہیل خاور، خرم کیانی، ملک اخلاق ، سید سجاد حسین، پیپلز پارٹی امریکا کی جنرل سیکریٹری سیمی اسد، آلڈر مین مشاق لاشاری اور دیگر ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.