منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی نئی شرائط کیا ہیں؟

دنیا
برطانیہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی نئی شرائط کیا ہیں؟

برطانوی حکومت نے مستقل سکونت (انڈیفینیٹ لِیو ٹو ریمین) کے قواعد میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت زیادہ تر تارکینِ وطن کو اب مستقل سکونت حاصل کرنے کے لیے پانچ کے بجائے 10 سال برطانیہ میں رہنا ہو گا۔

انڈیفینیٹ لِیو ٹو ریمین (یعنی آئی ایل آر) یا مستقل سکونت، کسی فرد کو برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتی ہے۔

ایسی حیثیت رکھنے والے افراد، اگر متعلقہ شرائط پر پورا اترتے ہوں، تو سرکاری مراعات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ آئی ایل آر رکھنے والے افراد بعد ازاں برطانوی شہریت کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

گذشتہ سال نومبر میں برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے مستقل سکونت کے قواعد سخت کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

ان کی تجویز تھی کہ زیادہ تر تارکینِ وطن کے لیے آئی ایل آر کے حصول کی مدت پانچ برس سے بڑھا کر 10 برس کر دی جائے، جبکہ بعض افراد کو مستقل سکونت کے لیے 15 برس تک انتظار کرنا پڑ سکتا تھا۔

اس کی ایک وجہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ آنے والے افراد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ تھا، جو سابق کنزرویٹو حکومت کے دور میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں حکومت نے اس تجویز میں تبدیلی کر دی اور بعض گروہوں، خصوصاً طبی نگہداشت کے شعبے کے بعض کارکنوں کے لیے موجودہ پانچ سالہ راستہ برقرار رکھا، جبکہ عمومی مدت 10 سال مقرر کی گئی۔

جب بی بی سی نے شبانہ محمود سے پوچھا کہ کیا انھوں نے اپنی سابقہ پالیسی سے پسپائی اختیار کی ہے تو انھوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔‘

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

ان کے بقول برطانیہ میں موجود تقریباً پانچ لاکھ افراد اب پانچ سال بعد مستقل سکونت حاصل نہیں کر سکیں گے بلکہ انھیں اس کے لیے زیادہ عرصہ انتظار کرنا ہو گا۔

اس سال مارچ میں جب شبانہ محمود نے اپنی ابتدائی تجاویز پیش کی تھیں تو وزارتِ داخلہ نے تخمینہ لگایا تھا کہ موجودہ قوانین کے تحت 2026 سے 2030 کے درمیان مستقل سکونت حاصل کرنے والے تقریباً ایک لاکھ 17 ہزار غیر ملکی کیئر ورکرز پر حکومتی اخراجات مجموعی طور پر 4.2 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے تخمینے کے مطابق اگر ان کارکنوں کے بالغ اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا جائے تو یہ لاگت بڑھ کر 9.5 ارب پاؤنڈ تک جا سکتی ہے۔

شبانہ محمود نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ترمیم شدہ منصوبوں سے حکومتی خزانے کو ’اربوں پاؤنڈ‘ کی بچت ہو گی، کیونکہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے تارکینِ وطن کو اب بھی مستقل سکونت کے لیے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے مالی اثرات سے متعلق تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2021 سے 2024 کے درمیان برطانیہ آنے اور ملک چھوڑنے والوں کی تعداد کے فرق کے نتیجے میں ملک کی آبادی میں تقریباً 26 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔

وزارتِ داخلہ کا اندازہ ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان 13 لاکھ سے 22 لاکھ افراد برطانیہ میں مستقل سکونت حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ اس کا ابتدائی تخمینہ 19 لاکھ افراد کا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق گذشتہ سال پیش کیے گئے منصوبے کی صورت میں تقریباً سات لاکھ 99 ہزار افراد کی مستقل سکونت حاصل کرنے کی اہلیت مؤخر ہو جاتی۔ تاہم پیر کو اعلان کردہ نظرثانی شدہ منصوبے کے تحت یہ تعداد کم ہو کر پانچ لاکھ 17 ہزار رہ جائے گی۔

نئے نظام کے تحت مستقل سکونت کے خواہش مند افراد کو اپنی درخواست منظور ہونے سے قبل سات برسوں میں سے کم از کم پانچ برس کے دوران سالانہ کم از کم 12 ہزار 571 پاؤنڈ کمانا ہوں گے۔

تاہم حکومت نے بعض گروہوں کو نئے 10 سالہ نظام سے مستثنیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ پانچ سال بعد ہی برطانیہ میں مستقل سکونت حاصل کر سکیں گے۔

ان میں وہ افراد شامل ہیں جن کی آمدنی مستقل سکونت کی درخواست سے قبل پانچ برسوں میں سے کم از کم تین برس کے دوران 50 ہزار پاؤنڈ سالانہ سے زیادہ رہی ہو۔

اسی طرح نگہداشت (کیئر) کے شعبے میں کام کرنے والے ایسے کارکن جو مئی 2025 سے پہلے برطانیہ آئے تھے اور سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کماتے ہیں، وہ پانچ سال برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کے بعد مستقل سکونت کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

ڈاکٹرز، اور اساتذہ بھی پانچ سال بعد مستقل سکونت کے اہل رہیں گے۔

ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے برٹش نیشنل (اوورسیز) سٹیٹس کے حامل افراد بھی موجودہ پانچ سالہ نظام کے تحت مستقل سکونت حاصل کر سکیں گے۔

جبکہ سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور بعض انتہائی ہنر مند ویزا ہولڈرز صرف تین سال بعد مستقل سکونت کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پناہ گزین جو چھوٹی کشتیوں یا کسی دوسرے غیر قانونی راستے سے برطانیہ پہنچے ہوں، انھیں مستقل سکونت حاصل کرنے کے لیے زیادہ انتظار کرنا ہو گا۔

ایسے افراد اگر برطانیہ میں کام کریں یا تعلیم حاصل کریں تو 20 سال بعد مستقل سکونت کے اہل ہوں گے، جبکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں 30 سال انتظار کرنا پڑے گا۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق سرکاری مراعات (بینیفٹس) حاصل کرنے والے تارکینِ وطن کو مستقل سکونت کے لیے 20 سال انتظار کرنا ہو گا۔

جبکہ حکومتی منصوبے کے تحت مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو برطانیہ میں مستقل سکونت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مستقل سکونت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو اے لیول کے برابر معیار کی انگریزی زبان کا مظاہرہ بھی کرنا ہو گا۔

BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ بی بی سی نیوز اردو ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔

نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو