بحرالکاہل پر فعال جیٹ اسٹریم کیا ہے؟ اس سے پروازوں کو نقصان اور فائدہ کس طرح ہوتا ہے؟

ایل نینو کی وجہ سے سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جو ماحول میں شدید توانائی پیدا کرتا ہے/ فائل فوٹو
بحرالکاہل کے اوپر گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 'جیٹ اسٹریم' غیرمعمولی 330 سے 370 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، اس کی وجہ بحرالکاہل میں ایل نینو کے مضبوط پیٹرن کا سرگرم ہونا ہے۔
ایل نینو کی وجہ سے سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جو ماحول میں شدید توانائی پیدا کرتا ہے اور سردیوں کے آغاز میں ہی بحرالکاہل کی جیٹ اسٹریم کو معمول سے بہت زیادہ طاقتور اور وسیع بنا رہا ہے، زمین سے تقریباً 30ہزار سے 35ہزار فٹ کی بلندی پر جیٹ اسٹریم کی رفتار انتہائی طاقتور مانی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جیٹ اسٹریم کے سب سے مضبوط حصے میں ہواؤں کی رفتار 180 سے 200 ناٹس (تقریباً 330 سے 370 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں ایک روٹ کے مسافر طیاروں کو ملنے والی از خود تیز رفتاری سے فی گھنٹہ کروڑوں روپے کے فیول کی بچت ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
خطرے کی گھنٹی: بحرالکاہل میں موسمی سسٹم ایل نینو انتہائی شدت اختیار کرنیکے قریب پہنچ گیا
سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی
جیٹ اسٹریم کے پیچھے قدرت کی اہم سائنس ہے، بحرالکاہل پر پرواز کرنے والے مسافر طیارے جب مغرب سے مشرق کی طرف یعنی ایشیا یا جاپان سے امریکا کی طرف پرواز کرتے ہیں تو وہ ہوا کے ان تیز دھاروں یعنی جیٹ اسٹریم کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ تیز ہوائیں طیاروں کو پیچھے سے دھکا دیتی ہیں،'ٹیل ونڈ' کی وجہ سے پروازیں اپنے مقررہ وقت سے بہت پہلے منزل پر پہنچ جاتی ہیں اور فیول کی غیرمعمولی بچت ہوتی ہے جب کہ مخالف روٹ کی پروازیں اضافی فیول کے اخراجات برداشت کر رہی ہیں، وہیں مغرب کی طرف امریکا سے ایشیا جانے والی پروازوں کو ان شدید ہواؤں (ہیڈ ونڈز) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کا وقت اور فیول معمول سے انتہائی زیادہ لگ سکتا ہے۔
بشکریہ جیو نیوز