جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا

پاکستان
آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا

آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے مختلف بینچزکے چیلنج کیے گئے احکامات کو بھی معطل کردیا/ فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کے ایم پی او کے تحت گرفتاریاں روکنے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران فریقین کےوکیل شاہ فیصل نے کہا کہ عدالت حکم امتناع جاری کرنے سے پہلے ہمیں سن لے، صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات برقرار نہیں رکھے جاسکتے۔

اس موقع پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ ہمارا حکم پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کردیں، اس معاملے میں فریقوں کو نوٹسز جاری کررہے ہیں، فریقین عدالتی حکم دیکھ کر اپنی درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

بعد ازاں آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا اور ہائیکورٹ کے مختلف بینچزکے چیلنج کیے گئے احکامات کو بھی معطل کردیا۔

یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے احکامات میں تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں سے روکا تھا تاہم اس عبوری حکم کیخلاف خیبرپختوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

بشکریہ جیو نیوز