کے پی میں گورنرراج لگنے سے ایک دن قبل بیرسٹرگوہر اورسہیل آفریدی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

فوٹو؛ فائل
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے سے ایک دن قبل بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں جنید اکبر، شاہد خٹک اور شفیع جان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
بیرسٹ گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکراتی مسودے میں دہشت گردی سے متعلق ایک شق پر نظرثانی کرلی جائے تو معاملات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور گورنر راج کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔
تاہم پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی سمیت ملاقات میں موجود دیگر رہنماؤں نے بیرسٹر گوہر کی بات سے اتفاق نہیں کیا۔ بیرسٹر گوہر نے اس معاملے پر اسد قیصر سے بھی آن لائن رابطہ کیا تاہم وہ بھی متفق نہ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’یہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہماری آخری ملاقات ہوسکتی ہے‘۔ بیرسٹرگوہر نے ملاقات کی تفصیلات سے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کو بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات سے دو روز قبل بھی بیرسٹر گوہر نے شاہد خٹک اور شفیع جان سے رابطہ کرکے انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج کے ممکنہ فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو بتایا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ مذاکراتی مسودے کی ایک شق پر آمادہ ہوجائیں تو گورنر راج کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق شفیع جان اور شاہد خٹک کے رابطے کے بعد ہی سہیل آفریدی نے بیرسٹر گوہر کو وزیراعلیٰ ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی۔ وزیراعلیٰ سے ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر نے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سے بھی ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاہم اسپیکر نے طبیعت ناساز ہونے کے باعث معذرت کرلی۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس سے واپسی پر صوابی کے مقام پر بیرسٹرگوہر کو محسن نقوی کا مسیج آیا جس میں محسن نقوی نے لکھا کہ ’اینی پراگریس‘ تاہم بیرسٹر گوہر نے جواب میں لکھا ’نو‘۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹرگوہر نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج سے قبل میں وزیر اعلیٰ ہاؤس آیا تھا، ہماری کیا بات ہوئی تھی یہ پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں، میں پارٹی کے اندرونی معاملات پر باہر بات نہیں کرتا۔
بشکریہ جیو نیوز