المایدہ: قطر سے ’پاکستان آنے والے‘ ایل این جی ٹینکر پر حملے کا معمہ جس کے عملے میں چھ انڈین شہری بھی شامل تھے

قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے قریب خلیج فارس میں مائع گیس (ایل این جی) لیجانے والے ٹینکر کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کی ہے جس کے بارے میں امریکی جریدے ’بلوم برگ‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس ٹینکر کی منزل پاکستان تھی اور اسلام آباد نے اس کے محفوظ سفر کے لیے تہران سے بات بھی کر رکھی تھی۔
شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق ایل این جی ٹینکر ’المایدہ‘ 30 اکتوبر کو قطر کے راس لفان گیس پروسیسنگ مرکز سے روانہ ہوا اور اسے دو نومبر کی دوپہر پورٹ قاسم کراچی پہنچنا تھا۔ لیکن یہ اب بھی خلیج فارس میں ہی موجود ہے۔
پاکستان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ایران نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی (ناقلات) کی ملکیت ’المایدہ‘ ایل این جی ٹینکر جمعے کی شام خلیج فارس میں پروجیکٹائلز (نامعلوم اشیاء) کی زد میں آیا۔
قطر نے تاحال کسی ملک پر اس حملے کا الزام عائد نہیں کیا، تاہم قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ عالمی توانائی سپلائی اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں، قومی مفادات، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق متعلقہ حکام نے واقعے کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ قطر اور پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مرکزی ثالث ہیں اور دونوں ممالک کے وفود وقتاً فوقتاً تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد جہاں ایران نے کئی ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا تو وہیں مختلف مواقع پر وہ پاکستان آنے والے بحری جہازوں کو سفر کی اجازت دیتا رہا ہے۔
قطر نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز کارروائیاں خطے کے امن و استحکام اور عالمی معیشت دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی ’المایدہ‘ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سمندری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔
بیان کے مطابق اس طرح کے حملے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے اور عالمی سطح پر سمندری نقل و حمل کی آزادی اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
خلیج تعاون کونسل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
دوسری جانب امریکی جریدے ’بلوم برگ‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مائع قدرتی گیس بردار جہاز 'المایدہ' کو محفوظ راستہ دینے کے لیے ایران سے ’گرین سگنل‘ حاصل کیا تھا۔
’بلوم برگ‘ کے مطابق ’مارشل آئی لینڈ‘ کے جھنڈے والے اس جہاز کو محفوظ راستہ دینے سے متعلق پاکستان نے 30 اکتوبر کو ایران سے بات کی تھی۔
’بلوم برگ‘ کے مطابق معاملے سے براہِ راست آگاہ افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام کی جانب سے جہاز کو گزرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی ناقلات نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’المایدہ‘ جمعے کی شام کو خلیج فارس میں نامعلوم اشیا کی زد میں آیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس واقعے میں جہاز پر سوار عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے نتیجے میں ماحولیات پر کوئی اثر پڑا ہے۔ جہاز محفوظ حالت میں ہے، آپریشنل ہے اور واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
کمپنی کے مطابق جہاز، اس کے عملے اور خطے میں متعلقہ بحری سلامتی کے حکام کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ صورتحال کی مسلسل نگرانی بھی جاری ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے انڈیا کے وزیر جہاز رانی سربانند سونووال نے سنیچر کو ایکس پر لکھا کہ اس جہاز میں چھ انڈین شہریوں سمیت عملے کے تمام 25 ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
’بلوم برگ‘ کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹینکر پر فائرنگ کیوں کی گئی یا آیا وہ اب بھی اپنی منزل کی جانب جانے کی کوشش کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، جو بظاہر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور ثالث کے طور پر اپنے کردار سے فائدہ اٹھا رہا ہے، گذشتہ ایک ماہ کے دوران قطری ایل این جی کی کئی دیگر ٹینکرز کی سلامتی کے حوالے سے ایرانی حکام سے رابطے میں رہا ہے، اور یہ تمام ٹینکرز کامیابی سے خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے اطراف سفر کرنے والے بحری جہازوں کو درپیش مسلسل خطرات کو اجاگر کرتا ہے اور پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی پیدا کرتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کئی ماہ سے توانائی کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق اگر یہ ایل این جی کی کھیپ نہ پہنچ سکی تو پاکستان کو سپاٹ مارکیٹ کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ پیٹرولیم، قطر انرجی اور ایران کی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کو ڈیزل، پیٹرول اور گیس کی درآمد آبنائے ہرمز کے راستے سے ہوتی ہے اور حالیہ صورتحال کے باعث پاکستان میں ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان میں گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبے کی گیس کی ضروریات تین ذرائع سے پوری ہوتی ہیں: مقامی قدرتی گیس، درآمدی آر ایل این جی اور مقامی و درآمدی ایل پی جی۔
پاکستان ایران سے بھی گیس حاصل کرتا ہے، لیکن قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت پاکستان روزانہ تقریباً 600 ملین کیوبک فٹ آر ایل این جی درآمد کرتا ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان کے لیے اس کی سپلائی میں خلل پڑتا رہا ہے۔
پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین محمد راجپر نے بی بی سی کے تنویر ملک کو بتایا کہ ایل این جی سے لدا جہاز قطر کی گیس کمپنی کا ہے جس کے عملے میں انڈین بھی شامل تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ ’یہ معمول ہے کہ اس کمپنی کے جہاز پر موجود انڈین پاکستان آتے ہیں اور ان پر کوئی پابندی نہیں‘ تاہم اُنھوں نے کہا ’اگر کسی جہاز پر پاکستانی عملہ ہو تو وہ انڈیا نہیں جا سکتا۔‘ راجپر نے بتایا کہ انڈیا نے گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث کے بعد یہ پابندی لگائی تھی۔
راجپر پاکستان میں ایل این جی کارگو کی ہینڈلنگ کے شعبے سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ قطر کی جانب سے گیس سپلائی بند ہونے کی صورت میں پاکستان میں انرجی کا بحران بڑھ سکتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں معاہدے کے تحت 20 کارگو آنے تھے۔
اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان سپاٹ مارکیٹ (مارکیٹ کی موجودہ قیمت کے مطابق) سے 10 کارگو خریدنا چاہتا ہے تاہم ان کی قیمت تین گنا زیادہ ہے جو نہ صرف زرِمبادلہ ذخائر پر اثر ڈالے گی بلکہ صارفین کے لیے گیس بھی بہت مہنگی ہو گی۔
بی بی سی نے اس معاملے پر ردِعمل جانے کے لیے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے رابطہ کیا، تاہم اُنھوں نے اس پر فی الحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
لیکن اتوار کو لاہورمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ موسمِ سرما میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتظامات کر رہی ہے اور حکومت کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دسمبر اور جنوری میں گیس کی طلب کو پورا کرنے کے لیے سمندری راستوں سے مناسب قیمت پر کافی مقدار میں ایل پی جی درآمد کرنے کے انتطامات کیے جا رہے ہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو